دوساتھیوں فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو ۳۰ /۳۰ سال کی قید کی سزا
ایجنسیز
نئی دہلی؍۲۴مارچ
دہلی کی ایک عدالت نے منگل کے روز دخترانِ ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو ریاست کے خلاف سازش کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی۔
ایڈیشنل سیشن جج چندر جیت سنگھ نے اس کیس میں اندرابی کی دو ساتھیوں، صوفی فہمیدہ اور نہیدہ نسرین کو بھی۳۰ /۳۰سال قید کی سزا سنائی۔
عدالت نے آسیہ اندرابی کو غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعہ۱۸ (سازش کی سزا) کے تحت عمر قید دی، جبکہ ان پر تعزیراتِ ہند کی دفعات۱۲۰بی (مجرمانہ سازش) اور۱۲۱ اے کے تحت بھی سزا عائد کی گئی۔
عدالت کے مطابق سزائیں بیک وقت چلیں گی۔صوفی فہمیدہ اور نہیدہ نسرین کو یو اے پی اے کی دفعہ۱۸؍اور آئی پی سی کی دفعہ۱۲۰ بی کے تحت۳۰ سال سادہ قید کی سزا سنائی گئی۔
واضح رہے کہ تینوں کو۱۴جنوری کو مجرم قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے عدالت سے آسیہ اندرابی کے لیے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ انہوں نے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کی اور اس پر سخت سزا ضروری ہے۔
عدالت کے ۲۸۶صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ اندرابی اور ان کے ساتھیوں نے کشمیر کو بھارت سے علیحدہ کرنے کی سازش تیار کی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ این آئی اے کی جانب سے پیش کردہ ویڈیوز میں ملزمان کو بارہا یہ دعویٰ کرتے ہوئے دیکھا گیا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور بھارت نے اسے زبردستی اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد میں ایسی تقاریر اور بیانات شامل ہیں جن میں کشمیر کو بھارت سے آزاد کر کے پاکستان کا حصہ بنانے کی بات کی گئی ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اندرابی نے اپنی تقاریر اور انٹرویوز میں پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ کشمیر کبھی بھارت کا حصہ نہیں رہا۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملزمان نے تقسیمِ ہند کے ’دو قومی نظریہ‘ کو بنیاد بنا کر یہ بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کی کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے۔فیصلے میں دخترانِ ملت تنظیم کا بھی ذکر کیا گیا، جسے اندرابی نے قائم کیا تھا، اور کہا گیا کہ یہ تنظیم’حقِ خود ارادیت‘ کے نام پر بھارت کے ایک اٹوٹ حصے کو علیحدہ کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث رہی۔
عدالت کے مطابق ملزمان نے تقاریر، انٹرویوز اور مختلف سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے اس مقصد کو فروغ دینے کی کوشش کی اور ایک ایسا تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ غیر قانونی قبضے میں ہے۔
یاد رہے کہ آسیہ اندرابی اور ان کی دو ساتھیوں پر فروری۲۰۲۱ میں یو اے پی اے اور تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔










