ایجنسیز
سرینگر؍۲۴مارچ
جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے ریاسی ضلع میں تعینات ایک سابق تحصیل سپلائی آفیسر (ٹی ایس او) اور دیگر اہلکاروں کے خلاف مبینہ طور پر اضافی راشن کی خرد برد اور ٹرانسپورٹ فنڈز میں بدعنوانی کے الزام میں ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اے سی بی کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کیس ایف آئی آر نمبر۰۶/۲۰۲۶دفعہ۵(۱)(سی)(ڈی) ہمراہ دفعہ۵(۲)جموں و کشمیر پی سی ایکٹ سوِت۲۰۰۶؍اور دفعہ۱۲۰۔بی ۴۰۹آر پی سی کے تحت پولیس اسٹیشن اے سی بی ادھم پور میں درج کیا گیا ہے۔ اس میں پرنو گنڈوترا (سابق ٹی ایس او ارناس/دھرماری، ضلع ریاسی) کے علاوہ محکمہ سی اے اینڈ پی ڈی کے اس وقت کے دیگر افسران و اہلکار بھی نامزد ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پرنو گنڈوترا نے اپریل۲۰۱۱سے جنوری۲۰۱۳ کے دوران بطور ٹی ایس او ارناس/دھرماری تعیناتی کے وقت مبینہ طورپر۲۲۲۹۸ء۸۰کوئنٹل اضافی راشن حاصل کیا، جبکہ تقریباً۱۰۳ء۶۳لاکھ روپے بطور ٹرانسپورٹ/کیریج چارجز بھی حاصل کیے، جس میں اُس وقت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز ٹریڈ اینڈ اسٹورز، محکمہ سی اے اینڈ پی ڈی جموں اور دیگر کے ساتھ ملی بھگت شامل تھی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ راشن متعلقہ ڈپوؤں تک نہیں پہنچایا گیا بلکہ اسے مبینہ طور پر بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا گیا، جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
ترجمان کے مطابق ملزمان نے اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اور باہمی سازش کے تحت راشن اور ٹرانسپورٹ فنڈز میں خرد برد کی، جس سے انہیں ناجائز فائدہ پہنچا جبکہ حکومت کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔










