نئی دہلی، 23 مارچ (یو این آئی) کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے پیر کے روز اس سال ہندوستان کی صدارت میں دارالحکومت میں ہونے والے 18 ویں سالانہ برکس سربراہ اجلاس کے حوالے سے مرکزی حکومت کو نشانے پر لیا مسٹر رمیش نے کہا کہ برکس گروپ عالمی مسائل پر موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ برکس گروپ میں برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ کے ساتھ ارجنٹینا، مصر، ایتھوپیا، سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) شامل ہیں۔ اس کے باوجود حکومت مغربی ایشیا کے موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس سفارتی پہل نہیں کر رہی ہے۔ کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ "خود ساختہ وشو گرو” اس پلیٹ فارم کا استعمال اس لیے نہیں کر رہے کیونکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی غیر ملکی رہنماؤں سے فون پر بات چیت کر رہے ہیں لیکن ایسی گفتگو کی اپنی حدود ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق، روبرو ملاقاتوں اور سربراہ اجلاسوں کے ذریعے زیادہ ٹھوس اور موثر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، مسٹر رمیش نے اس سال جی 20 کی صدارت امریکہ کے پاس ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سے "تقریروں اور طعنوں” کے علاوہ ٹھوس نتائج کی امید کم ہی ہے۔
واضح رہے کہ برکس سربراہ اجلاس کا انعقاد اس سال کے آخر میں تجویز کیا گیا ہے۔









