واشنگٹن، 23 مارچ (یو این آئی) سابق امریکی سیکریٹری دفاع اور سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ آگے کنواں پیچھے کھائی والی صورتحال میں پھنس چکے ہیں۔
برطانوی اخبار سے گفتگو میں لیون پنیٹا نے ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ٹھوس منصوبہ بندی کے بجائے ’خیالی سوچ‘ پر انحصار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ کو یہ گمان ہے کہ ان کے بیانات خود بخود حقیقت بن جائیں گے، جو ایک غیر سنجیدہ رویہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا قتل ایک بڑی غلطی ثابت ہوا کیونکہ اس سے کسی عوامی بغاوت کے بجائے ایک زیادہ سخت مؤقف رکھنے والی قیادت سامنے آ گئی۔
لیون پنیٹا نے حیرت کا اظہار کیا کہ امریکی انتظامیہ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے امکان کے لیے پیشگی تیاری نہیں کی حالانکہ یہ خطرہ ہمیشہ قومی سلامتی کے اجلاسوں میں زیر بحث رہتا تھا اور عالمی تیل بحران کا سبب بن سکتا تھا۔ ان کے مطابق ٹرمپ اس وقت ایسی صورتحال میں ہیں جہاں ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے باعث جنگ بندی ممکن نہیں اور امریکہ کے پاس اب صرف یہ راستہ رہ گیا ہے کہ وہ ایرانی ساحلی دفاعی نظام کو نشانہ بنائے اور تیل بردار جہازوں کو خود راستہ فراہم کرے اگرچہ اس سے جنگ میں شدت اور جانی نقصان کا خدشہ بڑھ جائے گا۔
لیون پنیٹا نے موجودہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ایک مؤثر سیکرٹری دفاع کے بجائے محض صدر کا حامی قرار دیا۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ جنگی ویڈیوز اور ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشوں کی منتقلی کو تشہیری مقاصد اور فنڈ ریزنگ کے لیے استعمال کرنا غیر مہذب عمل ہے۔
لیون پنیٹا نے ٹرمپ کی جانب سے ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر امریکی حملے پر معافی نہ مانگنے کو عالمی سطح پر امریکا کے منفی تاثر کو مزید مضبوط کرنے کا سبب قرار دیا۔
ادھر تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد اب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
ایک غیر ملکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد اب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور غور کیا جا رہا ہے کہ جنگ کے اگلے مرحلے اور ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کس طرح ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اس معاملے پر ابتدائی بات چیت شروع کردی گئی ہے۔ ٹرمپ کے داماد اور ان کے مشیر جیرڈ کوشنر اور مشرقِ وسطی کے لیے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف ممکنہ سفارت کاری میں شامل ہیں۔
ایران پر حملے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت ختم ہو چکی ہے، تاہم مصر، قطر اور برطانیہ اب بھی دونوں ملکوں میں پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق کسی بھی معاہدے کے تحت جنگ ختم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، ایران کے بہت زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا معاملہ حل کرنا اور ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں کے بارے میں طویل مدتی معاہدہ قائم کرنا شامل ہونا ضروری ہوگا۔
امریکہ، ایران سے یورینیم افزودگی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ پانچ سال کے لیے میزائل پروگرام کا خاتمہ بھی چاہتا ہے،جبکہ ایران جنگی نقصانات کا ہرجانہ طلب کر رہا ہے۔ ایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے منجمد اثاثے اسے واپس کر دے تو، ایران کا ہرجانے کا مطالبہ پورا ہو سکتا ہے۔








