سرینگر؍۲۳مارچ
جنگ سے متاثرہ ایران کے لیے کشمیر بھر سے عطیات کا سلسلہ پیر کو دوسرے روز بھی جاری رہا، جہاں لوگوں نے مسلکی تفریق سے بالاتر ہو کر بڑھ چڑھ کر اس مہم میں حصہ لیا اور نقد رقم کے ساتھ ساتھ قیمتی اشیاء بھی پیش کیں۔
شیعہ رہنما عمران انصاری نے حکام سے اپیل کی کہ اس’اجتماعی مذہبی اور انسانی یکجہتی‘ کے عمل کو وقار کے ساتھ جاری رکھنے دیا جائے اور اس پر ’غیر ضروری دباؤ یا سوالات‘ نہ اٹھائے جائیں۔
حکام کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں‘جن میں زڈی بل، حسن آباد، شالیمار، قمر واری، لاوے پورہ اور بمنہ شامل ہیں‘میں عطیات جمع کرنے کی مہم چلائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اکثریتی سنی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی بھرپور حصہ لیا اور کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔
اسی طرح کی مہمات بڈگام، بانڈی پورہ اور بارہمولہ اضلاع میں بھی دیکھنے کو ملیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں شیعہ آبادی کی خاصی تعداد موجود ہے۔ حکام کے مطابق لوگوں نے ایران کی امداد کے لیے نقدی، سونا، چاندی کے برتن اور تانبے کے برتن عطیہ کیے۔
خواتین نے اس مہم میں خصوصی طور پر نمایاں کردار ادا کیا، جنہوں نے سونے کے زیورات، تانبے کے برتن اور گھریلو اشیاء دل کھول کر پیش کیں۔ بعض خاندانوں نے مویشی بھی عطیہ کیے جبکہ بچوں نے اپنی جمع پونجی اور جیب خرچ تک پیش کر دیا۔
ایک خاتون نے اپنے مرحوم شوہر کی۲۸سال پرانی یادگار کے طور پر محفوظ رکھا گیا سونا عطیہ کر دیا، جو اس مہم کی سب سے جذباتی مثالوں میں سے ایک بن گیا۔
نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے نے اس جذبے کو ایرانی عوام کیلئے سب سے بڑی تسلی قرار دیا۔سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا’’کشمیر کی ایک معزز بہن نے اپنے مرحوم شوہر کی۲۸سال پرانی یادگار کے طور پر محفوظ سونا ایران کے عوام سے محبت اور یکجہتی کے جذبے کے تحت عطیہ کیا۔ آپ کے آنسو اور خالص جذبات ایران کے لوگوں کیلئے سب سے بڑی تسلی ہیں اور انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ شکریہ کشمیر، شکریہ بھارت‘‘۔
حکام کے مطابق یہ عطیات ایرانی سفارت خانے سمیت دیگر سرکاری امدادی اداروں کے ذریعے متاثرین تک پہنچائے جائیں گے۔
ادھر آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے صدر عمران انصاری نے کہا ’’کشمیری عوام، خاص طور پر شیعہ برادری، نے گہرے ایمان اور عقیدت کے ساتھ بڑی تعداد میں آگے بڑھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایران جیسے ملک، جو پہلے ہی پابندیوں اور جنگی مشکلات کا شکار ہے، کے ساتھ کھڑا ہونا اپنا اخلاقی اور مذہبی فرض سمجھتے ہیں‘‘۔
تاہم انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار بھی کیا کہ اس مہم سے وابستہ بعض افراد کو حکام کی جانب سے فنڈز کے ذرائع کے بارے میں فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا’’اس نازک وقت میں ضروری ہے کہ لوگوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ یہ عطیات خالصتاً انسانی اور مذہبی بنیادوں پر دیے جا رہے ہیں تاکہ ایران کے عوام کی مدد کی جا سکے۔ عوام کے جذبات اس سے گہرے طور پر وابستہ ہیں، اور کسی بھی غیر ضروری دباؤ یا پوچھ گچھ سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔‘‘(ایجنسیاں)










