دہشت گردی کے متاثرین کے اہلِ خانہ کو تقرری نامے ملنے پر تاثرات‘کہا ان کی فائلیں سالہاسال تک دھول چاٹ رہی تھیں
(ایجنسیز)
جموں؍۲۳مارچ
’’آخرکار انصاف مل گیا،‘‘ راجوری کے ابرار احمد نے کہا، جنہوں نے۲۶برس قبل دہشت گردی میں اپنے والدین کو کھو دیا تھا، جب پیر کے روز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے انہیں تقرری نامہ فراہم کیا۔
ابرار ان۴۳۸مستفیدین میں شامل ہیں جنہیں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران جموں و کشمیر بھر میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کو سرکاری ملازمتوں کے تقرری نامے دیے گئے۔ ان میں سے کئی افراد۱۵سے۲۶برس تک بحالی پالیسی کے تحت امداد کے منتظر رہے۔
اپنی دردناک داستان سناتے ہوئے ابرار نے بتایا کہ سال۲۰۰۰ میں دہشت گردوںنے ان کی والدہ کا گلا کاٹ دیا، خاندان کو مویشیوں سمیت گھر میں بند کرکے آگ لگا دی، جبکہ ایک سال بعد ان کے والد کو بھی اسی طرح قتل کر دیا گیا۔
ابرار نے کہا، ’’ہمارے لیے ایل جی ایک خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے کی طرح آئے ہیں۔ میں نے اپنے کیس کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد امید کھو دی تھی، لیکن آج جب مجھے تقرری نامہ ملا تو یقین نہیں آ رہا تھا۔‘‘
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے انصاف میں طویل تاخیر کو ’’تہذیبی ناکامی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان نہ صرف دہشت گردی سے تباہ ہوئے بلکہ ایک ایسے نظام سے بھی محروم رہے جو ان کی حفاظت اور مدد کے لیے بنایا گیا تھا۔انہوں نے کہا، ’’انصاف تب تک ممکن نہیں جب تک ناانصافی کو تسلیم نہ کیا جائے۔‘‘
دیگر مستفیدین نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے برسوں کی تکلیف، نقصان اور نظراندازی کی داستانیں بیان کیں۔
پونچھ کے بانڈی علاقے سے تعلق رکھنے والے محمد رفیق نے بتایا کہ۲۰۰۱میں ان کے والد کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا، جس کے بعد ان کی پرورش نانا نے کی اور بعد میں وہ یتیم خانے میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔انہوں نے کہا، ’’یہ ملازمت ملنے سے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہمیں نئی زندگی مل گئی ہو۔ میں ایل جی صاحب کا شکر گزار ہوں۔‘‘
ریاسی سے تعلق رکھنے والی مسکان، جن کی والدہ ایک دھماکے میں جاں بحق ہوئیں اور جن کی شناخت جسم کے ایک حصے سے ہوئی، نے کہا کہ یہ تقرری ان کے لیے طویل انتظار کے بعد راحت کا باعث بنی۔ ’’ہم برسوں فائلوں کے پیچھے بھاگتے رہے، مگر آج ہمیں ملازمت ملی۔ ہم دل کی گہرائیوں سے ایل جی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘
رامبن کے ایک اور مستفید نے بتایا کہ۲۰۰۱ میں ان کے والد کو گھر سے اٹھا کر قتل کر دیا گیا تھا۔ ’’ہم اس وقت بہت چھوٹے تھے۔ آج۲۵سال بعد ہمیں یہ سرکاری ملازمت ملی ہے،‘‘ انہوں نے کہا اور اپنی دادی کی قربانیوں کو سراہا جنہوں نے مشکل حالات میں ان کی پرورش کی۔
کئی مستفیدین نے کہا کہ وہ دہائیوں تک سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے رہے مگر کامیابی نہیں ملی۔ ایک رشتہ دار نے بتایا، ’’ہماری فائلیں۱۹۹۱سے اب تک دھول کھاتی رہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ رامبن ضلع کے دور دراز علاقوں جیسے سمبل اور توتار دھر میں۲۰۰۱کے دوران اجتماعی قتل کے واقعات میں کئی خاندانوں نے متعدد افراد کو کھو دیا۔
مستفیدین نے یونین ٹیریٹری انتظامیہ اور مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور زیر التوا معاملات کے حل سے انہیں انصاف ملا ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کو مالی استحکام فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں انصاف کا احساس دلانا ہے، جن میں سے کئی دہائیوں تک کسی سہارا کے بغیر رہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ ہر کیس ایک ایسے گھر کی نمائندگی کرتا ہے جہاں ’’ہنسی کی جگہ خاموشی نے لے لی‘‘ اور ایسے خاندان جو برسوں تک خود ہی مشکلات کا سامنا کرتے رہے۔انہوں نے کہا، ’’اب تک۴۳۸ متاثرہ خاندانوں کو تقرری نامے دیے جا چکے ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ۴۳۸بکھری ہوئی زندگیاں ہیں۔‘‘
ایل جی نے مزید کہا، ’’میں دہشت گردی کے متاثرہ خاندانوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم ان کی باعزت اور باوقار زندگی کو یقینی بنانے کے لیے پوری سنجیدگی سے کام کریں گے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہر خاندان تک انصاف نہ پہنچ جائے۔‘‘
واضح رہے کہ اس خصوصی اقدام کا آغاز۱۳ جولائی۲۰۲۵کو بارہمولہ میں دہشت گردی کے متاثرین کے لواحقین کو تقرری نامے دے کر کیا گیا تھا۔










