ڈیلروں کو معمول کے مطابق ہوم ڈیلیوری یقینی بنانے کی ہدایت
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۶مارچ
جموں انتظامیہ نے پیر کے روز ایل پی جی مراکز پر معائنہ کیا اور گیس سلنڈروں کی فراہمی میں تاخیر اور شکایات کے پیش نظر کارروائی کرتے ہوئے بعض ڈیلروں کو ضابطوں کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیے۔
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث گزشتہ چند دنوں سے جموں کے مختلف ایل پی جی مراکز پر لمبی قطاریں دیکھی جا رہی تھیں۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں، جبکہ ڈیلروں کو معمول کے مطابق ہوم ڈیلیوری یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) انسویہ جموال نے کہا’’یہ ہوم ڈیلیوری کا نظام ہے۔ اصل مسئلہ دستیابی نہیں بلکہ تاخیر کا ہے۔ بعض معاملات میں نظام میں ڈیلیوری ظاہر کر دی جاتی ہے اور صارفین کو پیغام بھیج دیا جاتا ہے، حالانکہ سلنڈر حقیقت میں پہنچایا نہیں گیا ہوتا۔ ایسی ایجنسیوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے‘‘۔انہوں نے بتایا کہ کچھ گھرانے مستقبل میں ممکنہ قلت کے خدشے کے باعث ایک سے زیادہ گیس سلنڈر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جموال نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کہیں زائد قیمت وصولی یا بدانتظامی کی شکایت ہو تو اس کی اطلاع دیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک و رسد کی جانب سے جاری ہیلپ لائن نمبرز کو وسیع پیمانے پر عام کیا گیا ہے۔
جموال کی قیادت میں ٹیموں نے متعدد ایل پی جی ڈیلروں کا معائنہ کیا اور اسٹاک رجسٹر، بکنگ ریکارڈ اور ڈیلیوری نظام کا جائزہ لیا۔ ٹیموں نے ان صارفین سے بھی بات چیت کی جو ہوم ڈیلیوری کے بجائے براہِ راست مراکز سے سلنڈر لینے کے لیے وہاں جمع ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا’’صارفین کو مراکز پر جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سلنڈر معمول کے مطابق گھروں تک پہنچائے جائیں گے۔ ڈیلروں کو واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہوم ڈیلیوری نظام پر مکمل طور پر عمل کریں۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ سلنڈر آن لائن طریقوں سے بک کریں‘‘۔
انہوں نے بتایا کہ ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے بعض ڈیلروں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے، جبکہ بیشتر ڈیلر قواعد کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
جموال کے مطابق متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے یہ معائنے کیے گئے۔انہوں نے کہا’’ہمیں شکایات مل رہی تھیں کہ ڈیلیوری کی تاریخیں بار بار بڑھائی جا رہی ہیں اور سلنڈر صارفین تک نہیں پہنچ رہے۔ اسی لیے ہم نے لیگل میٹرولوجی محکمہ کے حکام کے ساتھ مل کر موقع پر جا کر صورتحال کا جائزہ لیا‘‘۔
ایک ایجنسی میں حکام کو۲۲۰۰سے زیادہ زیر التوا ڈیلیوریاں ملیں، جبکہ اس سے قبل معائنہ کی گئی دو دیگر ایجنسیاں بغیر کسی تاخیر کے درست طریقے سے کام کر رہی تھیں۔
جموال کے مطابق ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ پیر کے روز۳۴۲صارفین کو سلنڈر فراہم کیے گئے جبکہ گزشتہ دنوں کی کچھ ڈیلیوریاں ابھی باقی تھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سلنڈر کی فراہمی بکنگ کی ترتیب کے مطابق کی جائے۔انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ گھبراہٹ میں خریداری یا ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں کیونکہ کچھ گھرانے ممکنہ قلت کے خدشے کے باعث ایک سے زیادہ سلنڈر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومتی رہنما اصولوں کے مطابق شہری علاقوں میں آخری ڈیلیوری کے بعد۲۵ دن سے پہلے نئی بکنگ نہیں کی جا سکتی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ وقفہ۴۵دن کا ہے۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ غیر ضروری طور پر ایجنسیوں کا رخ نہ کریں۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ڈپٹی کمشنروں اور محکمہ خوراک و شہری رسد کے حکام کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر میں ایل پی جی اور ایندھن کے ذخائر کا جائزہ لیا گیا، خاص طور پر آنے والے عید اور نوراتری تہواروں کے پیش نظر۔حکام کے مطابق وافر ذخیرہ موجود ہے اور ذخیرہ اندوزی یا بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ادھر جموں پولیس نے اتوار کے روز مبینہ طور پر بلیک مارکیٹنگ کے لیے غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیے گئے تقریباً۵۰؍ایل پی جی سلنڈر ضبط کر کے اس میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا۔ایک ایل پی جی ڈیلر نے تاہم کہا کہ سپلائی میں کوئی کمی نہیں ہے اور موجودہ صورتحال کی وجہ افواہیں اور گھبراہٹ میں کی جانے والی خریداری ہے۔
حکام نے عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ (ایجنسیاں)










