(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۶مارچ
مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے اضلاع لیہہ اور کرگل میں ریاستی درجہ اور آئین کے چھٹے شیڈول کے نفاذ سمیت مختلف مطالبات کے حق میں بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔
لیہہ اپیکس باڈی(ایل اے بی)اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس(کے ڈی اے ) جو بالترتیب لیہہ اور کرگل اضلاع کی نمائندگی کرنے والی دو تنظیمیں ہیں، نے اپنے مطالبات کی جانب مرکز کی توجہ مبذول کرانے کے لیے احتجاجی مارچ کا اعلان کیا تھا۔ ان مطالبات میں لداخ کو ریاستی درجہ دینا، آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنا اور وزارت داخلہ کے ساتھ بات چیت میں تاخیر شامل ہے۔
لیہہ میں لداخ کے جاری مطالبات یعنی چھٹے شیڈول کے نفاذ اور ریاستی درجہ کے حق میں ایک پُرامن ریلی نکالی گئی۔ لیہہ اپیکس باڈی کی قیادت میں ہزاروں افراد نے اس ریلی میں شرکت کی۔ ریلی میں مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت دیکھنے میں آئی، جو لداخ کے عوام کے درمیان اتحاد کی عکاسی کرتی ہے۔
ریلی سنگے نامگیال چوک سے شروع ہوئی اور لیہہ پولو گراؤنڈ تک گئی۔
شرکاء نے چھٹے شیڈول اور ریاستی درجہ کے مطالبات کو اجاگر کرنے والے پمفلٹس اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ اجتماع پُرامن رہا اور مختلف مذہبی و سماجی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ان مطالبات کی حمایت میں شریک ہوئے۔
ادھر کرگل میں بھی ریاستی درجہ اور چھٹے شیڈول کے مطالبے پر کرگل ڈیموکریٹک الائنس اور اپیکس باڈی کی کال پر مکمل بند منایا جا رہا ہے۔ کرگل میں ہزاروں افراد کی شرکت کے ساتھ ایک بڑا احتجاجی مارچ بھی نکالا گیا۔ کرگل کے ذیلی علاقہ دراس میں بھی مکمل بند دیکھا گیا۔
کے ڈی اے کے رکن سجاد کرگلی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا’’اس وقت لیہہ، لداخ میں لیہہ اپیکس باڈی کی جانب سے ریاستی درجہ اور چھٹے شیڈول کے مطالبے پر ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا ہے۔ گزشتہ چھ برسوں سے لداخ کے عوام جمہوری نمائندگی اور آئینی تحفظات سے محروم ہیں۔ پہاڑوں سے اٹھنے والی آوازیں انصاف، حقوق اور جمہوریت کی بحالی کے لیے مزید بلند ہو رہی ہیں‘‘۔
ادھر حکام کی جانب سے امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ لیہہ اور کرگل دونوں مقامات پر بھاری سیکورٹی تعینات کی گئی ہے۔ لداخ پولیس کے ڈی جی پی مکیش سنگھ خود لیہہ میں صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔










