’ افطار پر جگہ ملنا بھی مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے بہت سے لوگ پیشگی بکنگ کر کے آتے ہیں‘
ایجنسیز
سرینگر؍۱۰مارچ
رمضان المبارک کے آخری عشرے میں داخل ہوتے ہی وادی کشمیر کے تمام اضلاع میں افطار کے اوقات کے دوران ریستورانوں، ہوٹلوں، قہوہ خانوں اور گلی کوچوں کے کھانے کے مراکز پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔
لوگوں کی ایک بڑی تعداد گھروں کے بجائے باہر اجتماعی افطار کو ترجیح دے رہی ہے، جس کے باعث خصوصی افطار پلیٹیں، افطار بوفے اور روایتی کشمیری پکوانوں کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یو این آئی نامہ نگار کے مطابق سری نگر شہر کے دل،لال چوک، ڈلگیٹ، راج باغ، بٹہ مالو، نواب بازار، حیدربورہ سمیت دیگر علاقوں میں واقع معروف ریستورانوں نے خصوصی افطار مینو تیار کیا ہے، جن میں کھجور، مختلف مشروبات، کباب، مرغی و گوشت کے پکوان، حلیم، تکّی، کشمیری پولاؤ، چکن کڑاہی، اور وازوان سے متاثر مخصوص ڈشیں شامل کی گئی ہیں۔
ریستوران مالکان کے مطابق لوگوں کے ذوق اور خواہشات کو مدنظر رکھ کر افطار پلیٹیں اس طرح تیار کی گئی ہیں کہ ایک ہی پلیٹ میں میٹھے، نمکین، مشروبات اور گرم پکوانوں کا پورا اہتمام موجود ہو۔ اسی وجہ سے خاندان، دفاتر کے ملازمین، طلبہ اور نوجوان گروپ بڑی تعداد میں ان مراکز کا رخ کر رہے ہیں۔
سری نگر کے ایک معروف ریستوران مالک نے بتایا کہ اس سال رمضان میں رش پچھلے برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افطار پر جگہ ملنا بھی مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے بہت سے لوگ پیشگی بکنگ کر کے آتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وادی میں سماجی میل جول کا رجحان بڑھ رہا ہے اور لوگ مقدس مہینے میں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کے خواہاں ہیں۔
یہ رجحان صرف سری نگر تک محدود نہیں بلکہ بارہمولہ، سوپور، اننت ناگ، شوپیاں، پلوامہ اور بڈگام جیسے اضلاع میں بھی اسی طرح کی گہما گہمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ان علاقوں کے ریستورانوں اور قہوہ خانوں نے بھی خصوصی افطار پیشکشیں متعارف کرائی ہیں جن میں میٹھے، نمکین، چائنیز و عربی ذائقے، روایتی کشمیری پکوان اور کھانے کے بعد چائے یا قہوہ بھی شامل ہوتا ہے۔
شوپیاں میں ایک ریستوران کے مالک نے بتایا کہ نوجوان طبقہ خاص طور پر افطار کے وقت باہر کھانے کو ترجیح دے رہا ہے۔ ان کے مطابق رمضان کے آخری ایام میں گاہکوں کا رش کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جس سے کاروبار بھی بہتر ہوتا ہے اور مقامی بازاروں میں چہل پہل بڑھ جاتی ہے۔
سری نگر کے ایک شہری نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں رمضان کے دوران باہر کھانے کا رجحان بڑھا ہے۔ پہلے لوگ زیادہ تر گھروں پر افطار کرتے تھے لیکن اب انہیں مختلف ذائقے آزمانے اور دوسروں کے ساتھ وقت گزارنے کا شوق بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہر افطار کرنا نہ صرف ایک سماجی سرگرمی بن چکا ہے بلکہ خاندانوں کے لیے ایک یادگار وقت بھی ہوتا ہے۔
تاہم اس بڑھتی مقبولیت کے ساتھ ساتھ کچھ شہریوں نے افطار پلیٹوں اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک عام افطار پلیٹ کی قیمت بھی پچھلے برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو گئی ہے، جس سے متوسط طبقے کے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ شہریوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ بازار میں قیمتوں پر نظر رکھی جائے تاکہ رمضان کے مقدس مہینے میں عوام کو کسی اضافی بوجھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ریستوران مالکان کا کہنا ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم وہ کوشش کر رہے ہیں کہ معیار اور ذائقے پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ ان کے مطابق رمضان کا آخری عشرہ افطار بوفے اور خصوصی پلیٹوں کی فروخت میں سب سے زیادہ مصروف رہتا ہے اور اس سال یہ رجحان مزید بڑھنے کا امکان ہے، کیونکہ لوگ شب قدر، اعتکاف اور دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ سماجی نشستوں میں بھی اضافہ کرتے ہیں










