’میناب میں ۸۶ طالبات ہلاک ہوئیں ‘/میری معلومات کے مطابق خامنہ ای زندہ ہیں لیکن شاید ہمارے ایک یا دو کمانڈر مارے گئے: ایرانی وزیر خارجہ
(ندائے مشر ق ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲۸فروری
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں ’شاید ہمارے ایک یا دو کمانڈر ہلاک ہوئے ہیں۔‘
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے این بی سی پر عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق ’ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای زندہ ہیں۔‘
واضح رہے کہ اسرائیل ڈیفینس فورسز کا کہنا ہے کہ اس نے آج تہران میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات جمع تھیں تاہم ایران کا سرکاری میڈیا ان رپورٹس کی تردید کر رہا ہے، جن کے مطابق آج کے حملے میں ملک کے سینیئر سیاسی حکام اور آرمی چیف مارے گئے۔
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کشیدگی میں کمی کا خواہشمند ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے بشرطیکہ امریکا اور اسرائیل اپنے حملے بند کر دیں۔
یہ کہتے ہوئے کہ ’ابھی کوئی رابطہ نہیں ہوا‘ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ’اگر امریکی ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھ سے کیسے رابطہ کر سکتے ہیں۔‘
آج صبح امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں کئی مقامات پر حملے کئے ۔حملے میں ایران کاکہنا ہے کہ میناب میں ایک اسکول پر اسرائیلی حملے میں ۸۶ طالبات ہلاک ہو چکی ہیں ‘تاہم آزاد ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے ۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مبینہ فوجی حملوں کے بعد وہ ’’اختیار اور طاقت‘‘ کے ساتھ جواب دے گا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران پر اس وقت حملے کیے گئے جب امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری تھے۔
بیان میں کہا گیا، ’’ہماری مقدس اور عزیز سرزمین، قابلِ فخر ایران، جو ایک تہذیب ساز قوم ہے، ایک بار پھر امریکہ اور صہیونی حکومت کی مجرمانہ فوجی جارحیت کا نشانہ بنی ہے۔‘‘
ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور بحرین سمیت مختلف ممالک میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا اور اسرائیل پر بھی میزائل داغے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، ’’آج ایرانی عوام سربلند کھڑے ہیں، ہم نے جنگ کو روکنے کے لیے جو کچھ ضروری تھا، کیا۔ اب وقت ہے وطن کا دفاع کرنے اور دشمن کی فوجی جارحیت کا مقابلہ کرنے کا۔ جس طرح ہم مذاکرات کے لیے تیار تھے، اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ دفاع کے لیے تیار ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج جارح قوتوں کو اختیار اور طاقت کے ساتھ جواب دیں گی۔‘‘
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد اُن کا ملک اپنا حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے تمام تر فوجی وسائل استعمال کرے گا۔
ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عراق سمیت کئی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور اُن سے گفتگو کی ہے۔
بیان کے مطابق اس گفتگو کے دوران انھوں نے مسلم ممالک کے رہنماؤں سے کہا کہ ایران اپنی سالمیت کے تحفظ کے لیے اور اپنے حقِ دفاع کے تحت ’تمام دفاعی اور فوجی صلاحیتوں‘ کو بروئے کار لائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق عراقچی نے اِن ممالک کو یہ بھی یاد دہانی کروائی ہے کہ یہ اُن (ممالک) کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقوں اور سہولیات کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے لیے استعمال کرنے روکیں۔
دوسری جانب سعودی عرب نے ایران کی جانب سے مبینہ جارحانہ اقدامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سعودی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ریاستوں کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بیان میں مملکت نے برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان ممالک کی جانب سے اٹھائے جانے والے کسی بھی اقدام کی حمایت کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔
سعودی عرب نے خبردار کیا کہ ریاستوں کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔










