تمام منرل ڈیلر لائسنس منسوخ، جی پی ایس کے بغیر کوئی گاڑی کرشر یونٹس پر کام نہیں کریگی:نائب وزیر اعلیٰ
جموں؍۲۷فروری
اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی )نے اودھمپور اور ریاسی اضلاع میں دو روزہ خصوصی کارروائی کے دوران متعدد اسٹون کرشر یونٹس پر چھاپے مارے اور بڑے پیمانے پر غیر قانونی کان کنی کے شواہد برآمد کیے۔
یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب بیورو کو جموں صوبے کے مختلف حصوں میں ممنوعہ معدنیات کی غیر قانونی نکاسی سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئیں۔
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ کچھ معدنیات ٹھیکیداروں اور محکمۂ مائننگ و ایکولوجی کے چند اہلکاروں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے باعث غیر قانونی سرگرمیوں کو خفیہ طور پر جاری رہنے کی اجازت دی جارہی تھی۔ انہی اطلاعات کی بنیاد پر اے سی بی کی ٹیموں نے دو دن تک مربوط چھاپہ مار کارروائیاں کیں جن کی قیادت متعلقہ محکموں کے گزٹیڈ افسران کر رہے تھے۔
چھاپوں کے دوران متعدد مقامات سے اہم ریکارڈ، الیکٹرانک ڈیوائسز اور دیگر قابلِ ثبوت دستاویزات ضبط کی گئیں۔ افسران کے مطابق کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں جعلی ’فارم اے‘ ٹرانزٹ پاسز بھی برآمد ہوئے، جن کا استعمال معدنیات کی غیر قانونی نقل و حمل کے لیے کیا جاتا تھا۔
حکام نے بتایا کہ جن تمام اسٹون کرشر یونٹس کا معائنہ کیا گیا وہ قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب پائے گئے اور غیر قانونی کان کنی میں ملوث تھے، جس سے ماحولیات کو شدید نقصان پہنچ رہا تھا۔
اے سی بی نے ضبط شدہ ریکارڈ کی جانچ اور اس پورے نیٹ ورک میں شامل افسران، ٹھیکیداروں اور دیگر افراد کے رول کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بیورو کے مطابق قدرتی وسائل کے بے دریغ استحصال اور بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی تاکہ ایسے غیر قانونی دھندوں پر مؤثر طریقے سے روک لگائی جاسکے۔
دریں اثنا نائب وزیر اعلیٰ‘ سریندر چودھری نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ تمام منرل ڈیلر لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیے گئے ہیں اور جموں و کشمیر میں غیر قانونی کان کنی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے معدنیات کی غیر قانونی نکاسی اور قدرتی آبی ذخائر کے رخ موڑنے کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔
کھنڈوال کے اپنے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ کان کنی کی سرگرمیوں کے باعث شدید ماحولیاتی نقصان ہوا، حتیٰ کہ ایک ڈیم کا رخ موڑ دیا گیا جس کے نتیجے میں ملحقہ علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔
چودھری نے کہا کہ بیلی چرہانہ اور کھنڈوال جیسے علاقوں کی صورتحال تشویشناک ہے اور خبردار کیا کہ اگر غیر قانونی کان کنی فوری طور پر نہ روکی گئی تو چٹھہ اور اس سے ملحقہ نشیبی علاقوں کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ مائننگ ڈیپارٹمنٹ کے مجاز نظام کے تحت جاری کردہ درست ’پرچی‘ کے بغیر کسی بھی کرشر یونٹ سے کوئی گاڑی باہر نہیں جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مناسب دستاویزات کے بغیر معدنیات کی ترسیل ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
چودھری نے مزید کہا کہ کرشر یونٹس یا کان کنی کی سرگرمیوں میں مصروف تمام گاڑیوں، بشمول ڈمپروں، میں جی پی ایس آلات نصب کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا ــ’’جی پی ایس ٹریکنگ کے بغیر کسی گاڑی کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی‘‘۔
نائب وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حکومت نے مائننگ سیکٹر میں اصلاحات متعارف کرائی ہیں جن میں گاڑیوں کی نقل و حرکت اور مجاز نکاسی کی تصدیق کے لیے سیٹلائٹ مانیٹرنگ بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ نظام خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگا۔
چودھری نے الزام لگایا کہ سابقہ نظام کے تحت معدنیات کی غیر قانونی فروخت کی راہ ہموار ہوئی، اسی لیے تمام منرل ڈیلر لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ تمام اسٹون ٹپر پرمٹس کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں بھی منسوخ کیا جائے گا تاکہ مائننگ سیکٹر میں شفافیت اور جوابدہی یقینی بنائی جا سکے۔
حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی کمپنی یا کرشر یونٹ کی گاڑی کو جی پی ایس اور مناسب اجازت نامے کے بغیر کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور کسی بھی صورت غیر قانونی کان کنی برداشت نہیں کی جائے گی۔










