اگر اس مرحلے پر اچانک سردی کی لہر آئی تو اس سے پھول آنے، پھل بننے اور مجموعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے‘ماہرین کا انتباہ
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۷فروری
جمعرات کے روز جموں و کشمیر بھر میں دن کا درجۂ حرارت معمول سے زیادہ رہا، جبکہ وادیٔ کشمیر کے متعدد مقامات پر درجۂ حرارت موسمی اوسط سے۶سے۹ ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت۲۰ء۲ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جو معمول سے۸ء۲ڈگری زیادہ تھا، جبکہ قاضی گنڈ میں۲۰ء۴ ڈگری سینٹی گریڈ درج کیا گیا جو معمول سے۹ء۴ڈگری زیادہ ہے۔ کپواڑہ میں۲۰ء۳ڈگری (معمول سے۸ء۹زیادہ) اور کوکرناگ میں۱۸ء۹ ڈگری(۹ء۱ زیادہ) ریکارڈ کی گئی۔ پہلگام میں۱۴ء۶ڈگری درج ہوا جو معمول سے۶ء۱ڈگری زیادہ تھا، جبکہ گلمرگ میں۱۰ء۶ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو۸ء۲ڈگری زیادہ ہے۔
جموں خطے میں، جموں شہر میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت۲۷ء۰ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے۳ء۹ڈگری زیادہ تھا۔ کٹرا میں۲۵ء۲ڈگری(۴ء۳زیادہ) درج کی گئی، جبکہ بنی ہال اور بٹوت میں درجۂ حرارت۲۰ڈگری سے تجاوز کر گیا جو معمول سے تقریباً۷ڈگری زیادہ تھا۔ بھدرواہ میں۱۸ء۹ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے۴ء۵ڈگری زیادہ ہے۔
لداخ میں بھی نسبتاً معتدل موسم دیکھا گیا، جہاں لیہہ میں۷ء۴ڈگری سینٹی گریڈ، کرگل میں۹ء۳ ڈگری اور وادیٔ نوبرا میں۱۰ء۹ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
مسلسل گرم دنوں اور اس ماہ بارش کی نمایاں کمی کے باعث زمینی سطح پر اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ باغبانی ماہرین کے مطابق وادی میں متعدد پھل دار درختوں اور سجاوٹی پودوں میں معمول سے کئی ہفتے پہلے کونپلیں پھوٹنے اور شگوفے نکلنے کے آثار نمایاں ہیں، خبر رساں ایجنسی کے این او کے مطابق۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سردی کی مدت میں کمی کے باعث سیب اور دیگر معتدل آب و ہوا کے پھلوں کی فصلوں میں دورِ سکون مختصر ہو گیا ہے، جس سے ان کے قدرتی افزائشی عمل میں خلل پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مرحلے پر اچانک سردی کی لہر آئی تو اس سے پھول آنے، پھل بننے اور مجموعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
کسانوں نے بعض موسمی فصلوں میں تیز رفتار نباتاتی بڑھوتری کی بھی اطلاع دی ہے، جس سے یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ اگر خشک اور گرم حالات برقرار رہے تو طویل مدت میں فصلوں کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔










