ئی دہلی، 26 فروری (یواین آئی) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت ایک معاملے میں 3.35 کروڑ روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیداد ضبط کر لی ہے۔
ای ڈی کے ناگپور سب ریجنل آفس نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ سچن شتروگھن پانڈے اور ان کے اہل خانہ کی قرق کی گئی جائیدادوں میں تین تجارتی دکانیں اور دو پلاٹ شامل ہیں، جن کا کل رقبہ 10.37 ایکڑ ہے۔
پی ایم ایل اے کے تحت یہ تحقیقات ناگپور کے دھنتولی اور سیتا بلڈی پولیس اسٹیشنوں میں درج ایف آئی آرز کی بنیاد پر شروع کی گئی تھیں، جن میں سچن شتروگھن پانڈے اور ان کے ساتھیوں پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ سچن پانڈے اور ان کی اہلیہ خوشی پانڈے نے ناگپور کی دو جائیدادوں میں کوئی حصہ نہ ہونے کے باوجود، انہیں 2.5 کروڑ روپے میں فروخت کرنے کا جھوٹا معاہدہ کیا اور شکایت کنندہ امت کوٹھاری سے 2.2 کروڑ روپے نقد وصول کر لیے۔ بعد ازاں ملزمان نے رقم واپس کرنے کا وعدہ کیا لیکن وہ اس پر عمل کرنے میں ناکام رہے اور رقم کا ذاتی مفاد کے لیے غلط استعمال کیا۔
تحقیقات میں مزید پتہ چلا کہ پانڈے اور ان کے ساتھیوں نے چندر پرکاش وادھوانی کو ان کی کمپنی ‘لوفٹ انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ’ کے ذریعے ایک غیر ملکی ادارے سے 18 کروڑ روپے کا قرض دلوانے کا جھانسہ دیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے مبینہ طور پر 1.2 کروڑ روپے نقد وصول کیے، لیکن نہ تو قرض دلوایا اور نہ ہی رقم واپس کی۔
پی ایم ایل اے کے تحت تحقیقات میں یہ ثابت ہوا ہے کہ مرکزی ملزم پانڈے ایک عادی مجرم ہے، جس نے نہ صرف موجودہ کیس کے شکایت کنندہ بلکہ کئی دیگر افراد کو بھی مختلف جھوٹے وعدوں کے ذریعے دھوکہ دیا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حاصل شدہ رقم جزوی طور پر ان کے، ان کے خاندان اور متعلقہ اداروں کے بینک کھاتوں میں رکھی گئی تھی۔ کل رقم میں سے 90 لاکھ روپے مبینہ طور پر فلیٹس کی خریداری، 20 لاکھ روپے ایک ساتھی کے کھاتے میں منتقلی اور 70 لاکھ روپے ذاتی اخراجات کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ ای ڈی نے یہ بھی بتایا کہ رقم کا ایک حصہ بیرون ملک طبی علاج اور مزید جائیدادیں حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔
معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔










