سرینگر: بھارت نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں جموں و کشمیر کی ترقی سے متعلق مبینہ غلط معلومات پھیلانے پر پاکستان کو سخت جواب دیا ہے۔
یو این ایچ آر سی کے۶۱ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی نمائندہ انوپما سنگھ نے کہا کہ اگر پاکستان کو بھارتی علاقے کی ترقی پر یقین نہیں آتا تو وہ یا تو’وہَم کا شکار‘ ہے یا’لا لا لینڈ‘ میں رہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا ترقیاتی بجٹ اس حالیہ بیل آؤٹ پیکیج سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے جس کے لیے اسلام آباد نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کیا تھا۔
بھارت نے پاکستان اور تنظیمِ اسلامی تعاون (او آئی سی) کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم نے خود کو اسلام آباد کے لیے ایک’بازگشت خانہ‘ بننے دیا ہے۔
سنگھ نے کہا’’اگر چناب ریل پل، جو دنیا کا سب سے اونچا پل ہے اور گزشتہ سال جموں و کشمیر میں افتتاح کیا گیا، جعلی ہے تو پھر پاکستان یقیناً وہم میں مبتلا ہے یا ’لا لا لینڈ‘ میں رہ رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’ہم ان الزامات کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہیں‘‘ اور مزید کہا کہ پاکستان کا ’’مسلسل پروپیگنڈا اب حسد کی بو دینے لگا ہے‘‘۔
یو این میں بھارتی نمائندہ نے جموں و کشمیر پر نئی دہلی کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ’’یہ تھا، ہے اور ہمیشہ بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ رہے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ۱۹۴۷میں اس خطے کا بھارت کے ساتھ الحاق’’مکمل طور پر قانونی اور ناقابلِ واپسی‘‘ تھا، جو انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ اور بین الاقوامی قانون کے مطابق انجام پایا۔
سنگھ نے کہا اور اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے زیرِ قبضہ علاقوں کو خالی کرے۔ان کاکہنا تھا’’اس خطے سے متعلق واحد بقایا تنازع بھارتی علاقوں پر پاکستان کا غیر قانونی قبضہ ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کا ترقیاتی بجٹ’’پاکستان کے حالیہ آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج سے دوگنا سے زیادہ‘‘ ہے، اور اسے یونین ٹیریٹری میں حکمرانی اور ترقی کو پاکستان کے معاشی چیلنجز کے ساتھ تقابل کے طور پر پیش کیا۔
جمہوری عمل سے متعلق تنقید کا جواب دیتے ہوئے بھارتی نمائندہ نے کہا ’’ایک ایسے ملک سے جمہوریت پر لیکچر لینا مشکل ہے جہاں سویلین حکومتیں شاذ و نادر ہی اپنی مدت پوری کر پاتی ہیں‘‘۔ انہوں نے حالیہ عام اور اسمبلی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے عوام نے’’دہشت گردی اور تشدد کے نظریے کو مسترد کر دیا ہے‘‘ اور ترقی کی راہ پر آگے بڑھ رہے ہیں۔
سنگھ نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’مسلسل ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی‘‘کے ذریعے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ یہ دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر مسلسل ترقی کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ میںبھارتی نمائندہ نے کہا’’پاکستان کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اس طرح کے پلیٹ فارم پر خطیبانہ بیانات دے کر اپنی گہرتی داخلی بحران کو چھپانے کے بجائے اسے حل کرنے پر توجہ دے‘‘ اور مزید کہا ’’دنیا اس کے اس ڈھونگ کو بخوبی سمجھتی ہے‘‘۔
یہ تبادلہ خیال جموں و کشمیر کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل جیسے کثیرالجہتی فورمز پر بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی تلخی کے تازہ ترین دور کی نشاندہی کرتا ہے۔










