جمعہ, ستمبر 11, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

سپریم کورٹ کے اعتراض کے بعد نےاین سی ای آر ٹی نے درسی کتاب ویب سائٹ سے ہٹا دی

ایک  متنازعہ باب میں عدالتی بدعنوانی سے متعلق مواد شامل تھا،’حکومت نے کتاب میں اس موضوع کی شمولیت کو مناسب نہیں سمجھا‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-26
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
سپریم کورٹ کے اعتراض کے بعد نےاین سی ای آر ٹی نے درسی کتاب ویب سائٹ سے ہٹا دی
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’جموںکشمیر اپنی کہانیاں خود بیان کرے ‘

لداخ کو آرٹیکل۳۷۱کے تحت آئینی تحفظات، منفرد طرز کا منتخب ادارہ ملنے کا امکان

سرینگر: نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے سپریم کورٹ کی سخت برہمی کے بعد آٹھویں جماعت کی ایک درسی کتاب اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دی ہے۔ متنازعہ باب میں عدالتی بدعنوانی سے متعلق مواد شامل تھا، جس پر اعلیٰ عدالت نے اعتراض اٹھایا۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے کتاب میں اس موضوع کی شمولیت کو مناسب نہیں سمجھا۔
اسکولی نصاب تیار کرنے والی اس خودمختار کونسل کی جانب سے یہ بھی غور کیا جا رہا ہے کہ پہلے سے شائع شدہ کتابوں سے متنازعہ حصے حذف کر دیے جائیں۔ تاہم قومی دارالحکومت کے متعدد اسکولوں نے کہا ہے کہ انہیں تاحال اس بارے میں کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی کہ متعلقہ مواد پڑھایا جائے یا نہیں۔
تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کر رہے تھے اور جس میں جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی شامل تھے، نے این سی ای آر ٹی کی کتابوں میں عدلیہ سے متعلق ’قابلِ اعتراض‘ بیانات پر از خود نوٹس لیا۔ یہ معاملہ سینئر وکیل کپل سبل نے، ابھیشیک سنگھوی کے ہمراہ، فوری سماعت کے لیے پیش کیا تھا۔
چیف جسٹس سوریا کانت نے این سی ای آر ٹی کے آٹھویں جماعت کے نصاب میں شامل عدالتی بدعنوانی کے باب پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کسی کو بھی عدلیہ کو بدنام کرنے اور اس کی سالمیت کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
این سی ای آر ٹی کی نئی سوشل سائنس کتاب میں کہا گیا تھا کہ بدعنوانی، مقدمات کا بھاری بوجھ اور ججوں کی ناکافی تعداد عدالتی نظام کو درپیش بڑے چیلنجز میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق این سی ای آر ٹی نے اس باب کی تیاری میں شامل ماہرینِ مضمون اور منظوری دینے والے افسران کی سفارشات کا جائزہ لینے کے لیے داخلی میٹنگ طلب کی ہے۔
این سی ای آر ٹی کے چیئرمین دنیش پرساد سکلانی نے اس معاملے پر کالز اور پیغامات کا جواب نہیں دیا، جبکہ کونسل کے ایک اور اعلیٰ افسر نے یہ کہہ کر تبصرے سے انکار کر دیا کہ معاملہ زیرِ سماعت ہے۔
حکومتی ذرائع نے کہا کہ اگرچہ این سی ای آر ٹی ایک خودمختار ادارہ ہے، تاہم متنازعہ ابواب شامل کرتے وقت ذمہ دار افسران کو احتیاط برتنی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق اگر بدعنوانی کا موضوع شامل کرنا تھا تو اسے تینوں ستونوں ’مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ‘ سے متعلق ہونا چاہیے تھا، نہ کہ صرف ایک ادارے کو نشانہ بنایا جاتا۔
کتاب کے مطابق سپریم کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد تقریباً۸۱ہزار، ہائی کورٹس میں۶۲ء۴۰ لاکھ اور ضلعی و ماتحت عدالتوں میں۴ء۷۰کروڑ بتائی گئی تھی۔
اس میں عدلیہ کے داخلی احتسابی نظام کا ذکر کرتے ہوئے شکایات کے اندراج کے لیے سینٹرلائزڈ پبلک گریوینس ریڈریسل اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (سی پی جی آر اے ایم ایس) کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔ کتاب کے مطابق۲۰۱۷سے۲۰۲۱کے درمیان اس نظام کے ذریعے۱۶۰۰سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔
کتاب میں سابق چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوائی کا حوالہ بھی شامل تھا، جنہوں نے جولائی۲۰۲۵میں کہا تھا کہ عدلیہ میں بدعنوانی اور بدعنوان طرزِ عمل کے واقعات عوامی اعتماد پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’’اس اعتماد کی بحالی کا راستہ فوری، فیصلہ کن اور شفاف کارروائی میں مضمر ہے… شفافیت اور جوابدہی جمہوری اقدار ہیں‘‘۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عدلیہ سے متعلق بدعنوانی کا ڈیٹا پارلیمانی ریکارڈ اور نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ میں دستیاب ہے، تاہم حقائق کی تصدیق کے لیے مرکزی وزارتِ قانون سے مشاورت نہیں کی گئی۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ سابق چیف جسٹس گوائی کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جس پر وہ مبینہ طور پر ناخوش ہیں۔
ایک سرکاری عہدیدار نے کہا کہ اگر طلبہ کو بدعنوانی کے بارے میں تعلیم دینا مقصود تھا تو باب میں انہیں شکایت درج کرانے کی ترغیب دی جانی چاہیے تھی، نہ کہ کسی ایک ادارے کو الگ سے نمایاں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور۲۵ہائی کورٹس میں ججوں کے خلاف شکایات سے نمٹنے کے لیے داخلی نظام پہلے سے موجود ہے اور آئین سازوں کے مطابق عدلیہ ایک خودمختار ادارہ ہے جو ایسے معاملات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے اسی ماہ لوک سبھا کو بتایا تھا کہ۲۰۱۶سے۲۰۲۵کے درمیان حاضر سروس ججوں کے خلاف۸۶۳۹شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے سب سے زیادہ یعنی۱۱۷۰شکایات سال۲۰۲۴میں چیف جسٹس کے دفتر کو موصول ہوئیں۔
دریں اثنا، سابق وزیر قانون اشونی کمار نے چیف جسٹس سوریا کانت کی جانب سے از خود نوٹس لینے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت کارروائی عدلیہ کے خلاف پروپیگنڈے کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ٹی ای ٹی کو جموں وکشمیر میں فوری طور نافذ کرنے کی ضرورت نہیں ہے:ایتو

Next Post

کیرلم منظوری کے بعد وزیر اعلیٰ کی مغربی بنگال کے نام کی تبدیلی کی حمایت 

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

حکومت جموںکشمیر میں جنگل راج کی اجازت نہیں دے گی ‘
اہم ترین

’جموںکشمیر اپنی کہانیاں خود بیان کرے ‘

2026-09-11
لداخ کو آرٹیکل۳۷۱کے تحت آئینی تحفظات، منفرد طرز کا منتخب ادارہ ملنے کا امکان
اہم ترین

لداخ کو آرٹیکل۳۷۱کے تحت آئینی تحفظات، منفرد طرز کا منتخب ادارہ ملنے کا امکان

2026-09-11
لال قلعہ ہدف نہیں بلکہ لال مندر ہدف تھا ‘لیکن ٹریفک نے خودکش بمبار کا رخ بدل دیا
اہم ترین

لال قلعہ ہدف نہیں بلکہ لال مندر ہدف تھا ‘لیکن ٹریفک نے خودکش بمبار کا رخ بدل دیا

2026-09-11
’بی جے پی کا قانونی نوٹس ’محبت نامہ‘اور باعث اعزاز ہے ‘
اہم ترین

’یہ تاریخی حقیقت ہے، معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں‘

2026-09-11
بی جے پی ٹرانسپورٹ سیل کی سرینگر میں ٹرانسپورٹرز سے ملاقاتیں
اہم ترین

بی جے پی ٹرانسپورٹ سیل کی سرینگر میں ٹرانسپورٹرز سے ملاقاتیں

2026-09-11
اے سی بی کی کارروائی کے بعد فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے چار اہلکار معطل
اہم ترین

ڈوڈہ میں وائرل ویڈیو کے بعد پنچایت سیکریٹری معطل

2026-09-11
کپوارہ میں سرکاری ملازم منشیات فروش نکلا‘ گرفتار، براؤن شوگر بر آمد
اہم ترین

ریاسی میں مبینہ طور پر رشوت  لیتے ہو ئے پولیس افسر گرفتار

2026-09-11
وادی کے بالائی علاقوں میں تازہ برفباری‘ میدانی علاقوں میں موسلادھار بارش
اہم ترین

ڈی جی پی کا ڈوڈہ، کٹھوعہ  اور اودھم پور کے سنگم پر  مشترکہ سکیورٹی پوسٹ کا دورہ

2026-09-11
Next Post
کیرلم منظوری کے بعد وزیر اعلیٰ کی مغربی بنگال کے نام کی تبدیلی کی حمایت 

کیرلم منظوری کے بعد وزیر اعلیٰ کی مغربی بنگال کے نام کی تبدیلی کی حمایت 

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.