ممبئی ، 23 فروری (یو این آئی) بی جے پی کے میڈیا سیل کے سربراہ نو ناتھ بان نے الزام لگایا ہے کہ راجیہ سبھا کی ایک نشست کے تعلق سے شیو سینا (ٹھاکرے)، این سی پی (شرد پوار) اور کانگریس کے درمیان رسہ کشی جاری ہے اور اسی وجہ سے سنجے راؤت کانگریس کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بات پیر، 23 فروری 2026 کو بی جے پی کے ریاستی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ادھو ٹھاکرے کو دوبارہ قانون ساز کونسل میں لانے اور خود دوبارہ راجیہ سبھا پہنچنے کے لیے راؤت کانگریس کے مؤقف کے محتاج بن گئے ہیں۔ ان کے مطابق کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے حال ہی میں کہا تھا کہ پہلے راجیہ سبھا کی نشست کانگریس کو دی جائے تبھی کونسل کی نشست شیو سینا (ٹھاکرے) کو مل سکتی ہے۔
بان نے کہا کہ راؤت اپنی میعاد ختم ہونے کے قریب ہونے کے سبب دوبارہ راجیہ سبھا جانا چاہتے ہیں اور وہ پریانکا چترویدی کے بجائے شرد پوار کو راجیہ سبھا بھیجنے کی وکالت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے شیو سینا (ٹھاکرے) کے اندر بھی دو گروپ بن گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس سے قبل مہا وکاس اگھاڑی میں دراڑیں صاف نظر آ رہی ہیں کیونکہ اپوزیشن کی پریس کانفرنس میں این سی پی (شرد پوار) کا کوئی رکن اسمبلی موجود نہیں تھا اور حکومت کو لکھے گئے خط پر بھی سابق رکن اسمبلی سے دستخط کروانے پڑے۔
قائدِ حزبِ اختلاف کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ایوان میں کم از کم 10 فی صد ارکان کی شرط ضروری ہے اور اگر اپوزیشن کے پاس مطلوبہ عددی طاقت ہوتی تو یہ عہدہ انہیں مل جاتا، اس لیے اس کا ذمہ دار حکومت کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
بدعنوانی کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی قیادت میں مہایوتی حکومت زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کر رہی ہے اور اگر وزیر اعلیٰ کے دفتر میں بھی بدعنوانی سامنے آئی تو سخت کارروائی ہوگی، جبکہ انہوں نے مہا وکاس اگھاڑی کو بدعنوانی کا حامی قرار دیا۔










