نئی دہلی، 17 فروری (یو این آئی) ہندوستان آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے ذریعے عوامی صحت کی سہولیات کی فراہمی کو تبدیل کرنے کے لیے کمر بستہ ہے، اس دوران صحت اور خاندانی بہبود کی وزیر مملکت انوپریہ پٹیل نے کہا ہے کہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طبی پیشہ ور افراد کا ’’اے آئی لٹریٹ‘‘ ہونا ضروری ہے۔
محترمہ پٹیل بھارت منڈپم میں منعقدہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026کے دوران ’اختراع سے اثرات تک: اے آئی عوامی صحت میں گیم چینجر‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک سیشن میں خطاب کر رہی تھیں۔
مہارت کے فرق کو دور کرنے کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیرموصوف نے کہا کہ نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشنز ان میڈیکل سائنسز نے حال ہی میں حفظان صحت میں اے آئی پر ایک آن لائن تربیتی پروگرام شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کورس کا مقصد ملک بھر کے ڈاکٹروں کو ضروری ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا اور طبی افرادی قوت کو ٹیکنالوجی پر مبنی مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے۔
انہوں نے طبی ماہرین، بشمول ڈاکٹروں، ماہرین اور کلینیشنز پر زور دیا کہ وہ اپنی مہارت میں اضافہ کریں اور اے آئی سے لیس آلات کے ساتھ کام کرنا سیکھیں۔
محترمہ پٹیل نے کہا، ’’ڈاکٹروں کو یہ خوف پیچھے چھوڑ دینا چاہیے کہ اے آئی ان کی جگہ لے سکتا ہے۔ اس کے بجائے، انہیں اے آئی سے واقفیت حاصل کرنی چاہیے اور جامع اور منصفانہ حفظان صحت کے اہداف کو حاصل کرنے میں ہندوستان کی مدد کرنی چاہیے۔‘‘
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کا مقصد طبی ماہرین کی مدد کرنا ہے، نہ کہ ان کی جگہ لینا۔محترمہ پٹیل نے کہا کہ معمول کے اور زیادہ محنت والے کاموں کو کم کر کے، اے آئی ڈاکٹروں کو پیچیدہ کیسز اور اہم کلینیکل فیصلوں پر زیادہ وقت صرف کرنے کے لیے فارغ کر سکتا ہے۔










