نئی دہلی، 16 فروری (یو این آئی)
کانگریس نے کہا ہے کہ حال ہی میں امریکہ کے ساتھ ہوئے تجارتی معاہدے کے تحت جو شرط رکھی گئی ہے کہ ہندوستان روس سے خام تیل نہیں خریدے گا، اس کے بعد ہندوستان اپنی ضرورت کا 52 فیصد خام تیل اب نہیں خرید سکے گا جس سے ملک کو بڑا معاشی نقصان ہوگا کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا ممبر رندیپ سنگھ سرجے والا نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے 6 فروری کو ایک حکم میں کہا ہے کہ ہندوستان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ روس سے خام تیل نہیں خریدے گا اور اگر خریدتا ہے تو امریکہ اس پر نظر رکھے گا۔ اگر نگرانی میں پایا گیا کہ ہندوستان نے بلاواسطہ یا بالواسطہ روس سے تیل خریدا ہے تو ہندوستان پر تمام ٹیرف پنالٹی لاگو کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 14 فروری کو امریکی وزیر خارجہ نے بھی اسی بات کو دہرایا ہے کہ ہندوستان نے روس سے تیل نہ خریدنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس شرط کے مطابق ہندوستان اب امریکہ کے کہنے پر روس سے بھی خام تیل نہیں خرید سکے گا۔ اس سے پہلے امریکہ کے کہنے پر ہندوستان نے ایران سے خام تیل کی خریداری بند کر دی تھی۔
مسٹر سرجے والا نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ روس اور ایران دونوں ممالک سے ہندوستانی روپے میں تیل خریدتا تھا جس سے ہمارا پیسہ بچتا تھا۔ ہندوستان خام تیل کا 40 فیصد روس سے اور 11 فیصد ایران سے خریدتا تھا، لیکن ایران سے تیل کی خریداری پر جب امریکہ نے پابندی لگائی تو ہندوستان نے اسے آسانی سے تسلیم کرلیا۔ اب یہ معاہدہ کر لیا گیا ہے کہ ہندوستان روس سے بھی تیل نہیں خرید سکتا، اس طرح ہندوستان اپنی ضرورت کے 52 فیصد تیل کی درآمد نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان مسلسل روس اور ایران سے سستا خام تیل خریدتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ چار سال میں ہندوستان نے 15 لاکھ 24 ہزار کروڑ کا خام تیل خریدا اور اس سے ملک کو ایک لاکھ 81 ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے، لیکن اب امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بعد ہندوستان سستا تیل نہیں خرید سکے گا اور اس بچت سے محروم ہو جائے گا۔
سیتارمن دو روزہ ناروے کے دورے پر اوسلو پہنچیں
نئی دہلی، 16 فروری (یواین آئی)
مرکزی وزیرِ خزانہ اور کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن کے اوسلو ایئرپورٹ پہنچنے پر وہاں ہندوستان کی سفیر گلوریا گنگٹے نے ان کا استقبال کیا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق محترمہ سیتارمن اوسلو میں اپنے دو روزہ قیام کے دوران ناروے کے وزیرِ اعظم جوناس گار اسٹور سے ملاقات کریں گی۔ وہ وزیرِ خزانہ جینس اسٹولٹن برگ اور وزیرِ تجارت و صنعتسیسیلی مائرستھ کے ساتھ دو طرفہ اجلاس کریں گی۔
محترمہ سیتارمن اوسلو سائنس پارک بھی جائیں گی جہاں وہ کچھ اسٹارٹ اپ یونٹس کے ساتھ بات چیت کریں گی۔ وزیرِ خزانہ ناروے کی چند منتخب کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیو افسران اور سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک گول میز اجلاس میں شریک ہوں گی اور ناروے میں مقیم ہندوستانی نژاد افراد کے ساتھ ملاقات کے ایک پروگرام میں بھی شامل ہوں گی۔
محترمہ سیتارمن یورپ کے دورے کے پہلے مرحلے میں جرمنی میں مختلف پروگراموں میں شرکت کے بعد ناروے پہنچی ہیں۔ انہوں نے کل جرمنی کے میونخ میں مشہور بندرگاہ کمپنی اے پی ایم ٹرمینلز کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) کیتھ سوینڈسن سے ملاقات کی۔ سوینڈسن نے ہندوستان کے ساتھ طویل عرصے سے چلے آرہے تعلقات پر گفتگو کی۔
وزیرِ خزانہ نے انہیں ہندوستان کے بحری جہاز رانی اور بندرگاہ کے شعبے میں حالیہ اصلاحات کے بعد سرمایہ کاری اور شراکت داری کے مواقع پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ان تعلقات کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق سوینڈسن نے گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان میں اصلاحات، خاص طور پر قوانین کو آسان بنانے اور کاروبار میں سہولت پیدا کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے محترمہ سیتارمن کے حالیہ بجٹ میں کنٹینر مینوفیکچرنگ سے متعلق خصوصی اعلانات کا بھی ذکر کیا۔ دونوں نے حال ہی میں ہوئے ہندوستان-یورپی یونین (ای یو) آزاد تجارتی معاہدے کے فوائد پر بھی بات کی، جس سے ہندوستانی اور یورپی منڈیاں کھل رہی ہیں اور مستقبل میں دونوں طرف کے کاروباریوں کو فائدہ ہوگا۔










