ترقی یافتہ بھارت۲۰۴۷محض ایک ہدف نہیں بلکہ دنیا کے سامنے بھارت کا عہد ہے:وزیر اعظم مودی
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ سیوا تیرتھ، نیا کمپلیکس جس میں وزیر اعظم کا دفتر قائم ہے‘۱۴۰کروڑ بھارتیوں کی امنگوں کی خدمت کرے گا۔
سیوا تیرتھ سے اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ نئی عمارتیں نوآبادیاتی وراثت سے فیصلہ کن تبدیلی کی علامت ہیں اور ایک جدید بھارت کی امیدوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
سیوا تیرتھ تین عمارتوں پر مشتمل ہے جن میں پی ایم او، نیشنل سکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ اور کابینہ سیکریٹریٹ شامل ہیں۔
کارتویہ بھون ون اور۲کا افتتاح کرنے کے بعد مودی نے کہا’’میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ سیوا تیرتھ اور کارتویہ بھون کسی بادشاہ کی نہیں بلکہ بھارتیوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں‘‘۔
مودی نے کہا’’آج ہم سب ایک نئی تاریخ بنتے دیکھ رہے ہیں‘۱۳فروری کا یہ دن بھارت کے ترقیاتی سفر میں ایک نئی شروعات کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ آج ہم سب ’وکست بھارت‘ کے عزم کے ساتھ سیوا تیرتھ اور کارتویہ بھون میں داخل ہو رہے ہیں۔ ہمیں اپنے اہداف کے حصول کی الٰہی برکت حاصل ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ان عمارتوں میں داخل ہوتے وقت ہر افسر اور ملازم کو غور کرنا چاہیے کہ آیا اس دن ان کا کام لوگوں کی زندگی آسان بنائے گا‘‘۔
وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ ساؤتھ بلاک اور نارتھ بلاک صدیوں تک بھارت کو نوآبادیاتی کنٹرول میں رکھنے کے مقصد سے تعمیر کیے گئے تھے۔سیوا تیرتھ میں اب وزیر اعظم کا دفتر، نیشنل سکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ اور کابینہ سیکریٹریٹ قائم ہیں، جو پہلے مختلف مقامات پر پھیلے ہوئے تھے۔
کارتویہ بھون ون اور۲میں کئی اہم وزارتیں قائم ہیں جن میں مالیات، دفاع، صحت و خاندانی بہبود، کارپوریٹ امور، تعلیم، ثقافت، قانون و انصاف، اطلاعات و نشریات، زراعت و کسان فلاح، کیمیکلز و فرٹیلائزرز اور قبائلی امور شامل ہیں۔
وزیر اعظم نے زور دیا کہ ترقی یافتہ بھارت۲۰۴۷محض ایک ہدف نہیں بلکہ دنیا کے سامنے بھارت کا عہد ہے، اس لیے یہاں لیا جانے والا ہر پالیسی فیصلہ مسلسل خدمت کے جذبے سے متاثر ہونا چاہیے۔
مودی نے کہا کہ جب افسران اس عمارت سے ریٹائر ہوں گے یا یہاں سے آگے بڑھیں گے تو وہ اپنے دنوں کو یاد کریں گے اور یہ جان کر سکون محسوس کریں گے کہ سیوا تیرتھ اور کارتویہ بھون میں ہر لمحہ شہریوں کی خدمت کے لیے وقف تھا اور ہر فیصلہ قومی مفاد میں لیا گیا، جو ان کی سب سے بڑی کامیابی اور ذاتی سرمایہ ہوگا اور ان کی زندگیوں کو فخر سے بھر دے گا۔
مہاتما گاندھی کے اس عقیدے کو یاد کرتے ہوئے کہ فرض کی بنیاد حقوق کی عظیم عمارت کھڑی کرتی ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ جب فرض ادا کیا جاتا ہے تو بڑے سے بڑے چیلنجوں کا مقابلہ اور حل ممکن ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی لیے آئین کے معماروں نے فرض پر زور دیا کیونکہ کروڑوں شہریوں کے خواب اسی بنیاد پر قائم ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فرض ابتدا ہے، زندہ قوم کی روح ہے، ہمدردی اور محنت سے بندھا ہوا ہے، عزم کی امید ہے، کوشش کی معراج ہے، ہر مسئلے کا حل ہے اور ترقی یافتہ بھارت کا اعتماد ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ فرض مساوات ہے، فرض محبت ہے، فرض ہمہ گیر ہے اور ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کی روح میں پیوست ہے۔ انہوں نے اسے قوم کے لیے وقف جذبہ، ہر زندگی کو روشن کرنے والی قوت ارادی، آتم نربھر بھارت کی خوشی، آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت اور ’ناگرک دیوو بھو‘ کا بیدار راستہ قرار دیا۔
مودی نے کہا کہ اسی اعلیٰ جذبہ فرض کے ساتھ سب کو سیوا تیرتھ اور نئی عمارتوں میں داخل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت تیزی سے نئی بلندیوں اور نئے دور کی طرف بڑھ رہا ہے اور آنے والے برسوں میں ملک کی شناخت صرف معیشت نہیں بلکہ حکمرانی کے معیار، پالیسیوں کی وضاحت اور کرم یوگیوں کی لگن سے ہوگی۔
وزیر اعظم نے زور دیا کہ سیوا تیرتھ اور کارتویہ بھون میں لیا جانے والا ہر فیصلہ محض ایک فائل کی منظوری نہیں بلکہ ترقی یافتہ بھارت۲۰۴۷کی سمت طے کرے گا۔انہوں نے کہا کہ۲۰۴۷صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ۱۴۰کروڑ خوابوں کی مدت ہے جہاں ہر ادارہ، ہر افسر، ہر ملازم اور ہر کرم یوگی اہم ہے۔
وزیر اعظم نے اظہار خیال کیا کہ سیوا تیرتھ حساس حکمرانی اور عوام مرکز انتظامیہ کی علامت اور نمونہ بنے جہاں طاقت کے بجائے خدمت، عہدے کے بجائے عزم اور اختیار کے بجائے ذمہ داری نظر آئے۔انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ عزم تاریخ رقم کرے گا اور اجتماعی کوششیں آنے والی نسلوں کی رہنمائی کریں گی۔
مودی نے لال قلعہ سے اپنے الفاظ یاد دلاتے ہوئے کہا’’یہی وقت ہے، صحیح وقت ہے‘‘، اور سب سے کہا کہ ہر لمحہ قوم پہلے کے جذبے کے ساتھ استعمال کریں تاکہ آنے والی صدیوں میں کہا جائے کہ یہی وہ وقت تھا جب بھارت نے اپنی تقدیر بدلی اور روشن مستقبل کی طرف پہلا قدم رکھا۔
آخر میں انہوں نے سب کو اپنی نیک تمنائیں پیش کیں۔تقریب میں مرکزی وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور حکومت ہند کے افسران سمیت دیگر معززین موجود تھے۔










