سرینگر: جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو کہا کہ مرکزی زیر انتظام علاقہ حکومت انڈس واٹرز ٹریٹی(آئی ٹی ڈبلیو) کی معطلی سے مکمل فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف آبی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر عملدرآمد کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
پانی کے وسائل سے متعلق متعدد ناکارہ ٹیوب ویلوں اور دیگر منصوبوں کا معاملہ وقفہ سوالات کے دوران قانون ساز اسمبلی میں بی جے پی اراکین اسمبلی، جن میں سابق وزیر شام لال شرما بھی شامل تھے، نے اٹھایا۔
مختصر مدتی حل کو ’زخم پر پٹی باندھنے‘ کے مترادف قرار دیتے ہوئے، جیسا کہ شام لال شرما نے کہا تھا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایوان کو بتایا کہ حکومت کو آئندہ۳۰سے۵۰ برس کی آبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنا ہوگی کیونکہ روایتی آبی وسائل مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ این سی اور کانگریس کی مخلوط حکومت کے دوران‘جب شام لال شرما وزیر تھے، دریائے چناب سے جموں شہر کو پانی فراہم کرنے کی تجویز انڈس واٹرز ٹریٹی کی پابندیوں کے باعث نافذ نہ ہو سکی۔
عمرعبداللہ نے کہا’’یہ منصوبہ اکنامک ریکنسٹرکشن ایجنسی کے ذریعے ایشیائی ترقیاتی فنڈ کو بھیجا گیا تھا مگر آئی ڈبلیو ٹی کی رکاوٹوں کی وجہ سے منظوری نہیں ملی‘‘۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ چونکہ اس وقت معاہدہ معطل ہے، اس لیے جموں شہر کے لیے چناب پانی سپلائی منصوبے پر دوبارہ غور کا موقع موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’میری حکومت مرکز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ آئی ڈبلیو ٹی کی معطلی سے مکمل فائدہ اٹھایا جا سکے۔ہم دو بڑے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں شمالی کشمیر کے سوپور کے قریب جہلم پر تلبل نیویگیشن بیراج اور اکھنور میں دریائے چناب سے پانی اٹھا کر جموں شہر کو فراہم کرنا۔ہمیں امید ہے کہ دونوں منصوبوں کی جلد منظوری مل جائے گی جس کے بعد کام شروع ہوگا‘‘۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آئی ڈبلیو ٹی بھارت اور پاکستان کے درمیان۱۹ستمبر۱۹۶۰کو طے پایا تھا۔معاہدے کے مطابق پنجاب کی تین بڑی ندیاں ستلج، راوی اور بیاس بھارت کو جبکہ جموں و کشمیر کی تین بڑی ندیاں سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کو دی گئی تھیں۔
بھارت کو اپنی تین ندیوں کا پانی مکمل طور پر استعمال کرنے کی اجازت تھی، لیکن پاکستان کو دی گئی ندیوں پر جموں و کشمیر میں پانی روکنے کے لیے کوئی ڈیم یا بیراج تعمیر نہیں کیا جا سکتا تھا۔صرف محدود صلاحیت کے رن آف دی ریور پن بجلی منصوبے تعمیر کیے جا سکتے تھے۔
یوں آئی ڈبلیو ٹی نے جموں و کشمیر کو دریائے سندھ، چناب اور جہلم کی مکمل صلاحیت استعمال کرنے سے روک رکھا تھا۔
گزشتہ سال۲۲؍ اپریل کو پہلگام میں دہشت گرد حملے کے بعد، جس میں۲۶بے گناہ افراد(۲۵؍سیاح اور ایک مقامی پونی والا) جاں بحق ہوئے، بھارت نے آئی ٹی ڈبلیو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا اور یہ معطلی اب بھی برقرار ہے۔
بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے نامہ نگاروں سےاقتصادی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے بھارت۔امریکہ تجارتی معاہدے پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس کے اثرات جموں و کشمیر کی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہاں کی معیشت بڑی حد تک باغبانی اور خشک میوہ جات پر منحصر ہے اور اگر امریکی بادام، سیب، زعفران اور کیوی بغیر محصول کے درآمد ہوئے تو مقامی پیداوار سخت متاثر ہوگی۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ خطے میں سمندری صنعت موجود نہیں، اس لیے زرعی اور باغبانی مصنوعات ہی بنیادی معاشی سہارا ہیں اور بیرونی مقابلہ مقامی کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔
پاکستان کی جانب سے کرکٹ سے متعلق بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی دھمکیاں دینے سے گریز کرنا چاہیے جنہیں عملی طور پر نبھایا نہ جا سکے۔










