نئی دہلی، 05 فروری (یواین آئی) لوک سبھا میں وزیر اعظم نریندر مودی کے جواب کے بغیر ہی صدر کے خطبہ پر شکریہ کی تحریک جمعرات کو منظور کر لی گئی۔ ایوان کی کارروائی ایک بار ملتوی ہونے کے بعد دوپہر 12 بجے دوبارہ شروع ہوتے ہی اپوزیشن کے ارکان ہنگامہ اور نعرے بازی کرنے لگے۔
کانگریس کے ارکان وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگا رہے تھے کہ انہوں نے تجارتی معاہدے کے سلسلے میں امریکہ کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے۔ کانگریس کے ارکان پوسٹر بھی لہرا رہے تھے۔ سماج وادی پارٹی کے ارکان وارانسی میں منی کرنیکا گھاٹ کو منہدم کرنے اور وہاں دیوی اہلیابائی ہولکر کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کا الزام لگاتے ہوئے نعرے بازی اور ہنگامہ کر رہے تھے۔ ایس پی کے ارکان بڑے بڑے پوسٹر لئے ہوئے تھے جن پر اہلیابائی ہولکر کی تصویر تھی۔ اسی دوران لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے قانون ساز دستاویزات ایوان کے سامنے رکھوائے۔ اس کے بعد مسٹر برلا نے خطبہ پر شکریہ کی تحریک ایوان کی منظوری کے لئے پیش کی اور اس پر آئے ترامیم کو ایوان نے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد ایوان نے شکریہ کی تحریک کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔
مسٹر برلا نے شور شرابہ اور ہنگامہ کر رہے ارکان سے اپیل کی کہ ایوان کی وقار کو قائم رکھیں۔ ان کی اپیل کا اپوزیشن کے ارکان پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ شور مچاتے رہے۔ کئی ارکان بینر اور پوسٹر لے کر ایوان کے بیچ میں آ کر ہنگامہ کر رہے تھے۔ اس پر مسٹر برلا نے کارروائی کو دوپہر دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا۔










