نئی دہلی، 03 فروری (یواین آئی) صحت و خاندانی بہبود کے وزیر جے پی نڈا نے منگل کے روز کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں مرکزی حکومت کی مختلف اسکیموں کے باعث علاج پر عوام کے اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
نڈا نے راجیہ سبھا میں سوال و جواب کے دوران ایک ضمنی سوال کے جواب میں بتایا کہ عوام کو سستی صحت خدمات اور دوائیں فراہم کرنے کے لیے حکومت نے کئی اسکیمیں شروع کی ہیں۔ ان کے نتیجے میں گزشتہ 10 برسوں میں عوام کے جیب سے علاج پر ہونے والے اخراجات 62.6 فیصد سے گھٹ کر 39.4 فیصد رہ گئے ہیں، جس سے عام لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی صحت مشن کے تحت حکومت ضلع صحت مراکز، پرائمری ہیلتھ سینٹرز اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز کو مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ "جن اوشدھی” مراکز پر جینرک دوائیں برانڈڈ دواؤں کے مقابلے میں 80 فیصد تک کم قیمت پر دستیاب ہیں۔ "پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا” کے تحت غریبوں کو سالانہ پانچ لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت دی جا رہی ہے۔ سستی دواؤں کے لیے "امرت فارمیسی” بھی شروع کی گئی ہے۔
وزیر صحت نے بتایا کہ ان تمام اسکیموں کے باعث علاج پر عوامی اخراجات میں کمی آئی ہے۔ دواؤں کی زیادہ قیمتوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں نڈا نے کہا کہ دواؤں کی قیمتوں کے تعین کے تین مقاصد ہیں: دوائیں عوام کی پہنچ میں ہوں، فارما انڈسٹری کی ترقی جاری رہے اور لوگوں کو روزگار ملتا رہے۔
ایک اور ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کینسر کی 63 دواؤں کی قیمت کی حد مقرر ہے۔ اس کے ساتھ ہی کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والے 132 میں سے 131 فارمولیشنز کے لیے بھی زیادہ سے زیادہ قیمت طے کی گئی ہے۔










