ہفتہ کو وزیر داخلہ کی سرینگر آمد سے پہلے ہی سکیورٹی کے سخت انتظامات ‘ ڈل جھیل اور آبی گزر علاقوں کی تلاشی لی گئی
سرینگر: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے تین روزہ دورے سے قبل جموں و کشمیر بھر میں سکیورٹی کو انتہائی سخت کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ کے اس اہم دورے کے پیش نظر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو قبل از وقت ناکام بنایا جا سکے۔
امت شاہ کے دورے کا آغاز جمعرات سے ہونے جا رہا ہے جس میں وہ جموں، ادھم پور، سانبہ کے سرحدی علاقوں اور سری نگر میں کئی اہم مقامات کا دورہ کریں گے اور اعلیٰ سطحی میٹنگوں کی صدارت بھی کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ جمعرات کی شام جموں پہنچیں گے جہاں وہ ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔
اس اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران وزیر داخلہ کو جموں کے سرحدی علاقوں میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشن کے بارے میں مکمل جانکاری فراہم کی جائے گی۔
جموں میں انتظامیہ نے داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔ خاص طور پر نگروٹہ، گاندھی نگر، بس اسٹینڈ، اور سٹی چوک کے علاقوں میں سیکورٹی اہلکاروں کی گشت اور چیکنگ بڑھا دی گئی ہے۔ ہائی ویز پر جگہ جگہ کھوجی کتے، جدید اسکینر، گاڑیوں کے نیچے معائنہ کرنے والے آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ٹول پلازوں پر صف در صف کھڑی فورسز ہر گاڑی کو روکتے ہوئے مسافروں کی تفصیلی شناختی تصدیق کر رہی ہیں۔
دوسری جانب سری نگر میں بھی چپے چپے پر سیکورٹی کی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے جو ہر آنے جانے والے کو روک کر ان کے شناختی کارڈ باریک بینی سے چیک کر رہے ہیں۔
سری نگر میں موجود ہاؤس بوٹس، شکارے، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کی بھی خصوصی تلاشی لی گئی ہے۔ واٹر پولیس نے جھیل کے اندر سے باہر تک مکمل گشت کیا۔
سرینگر ایئرپورٹ، جموں ایئرپورٹ، اور ائیر فورس اسٹیشنوں کے اطراف سکیورٹی کو ’تھری ٹائر‘ سسٹم پر منتقل کیا گیا ہے۔ خصوصی انسپیکشن ٹیمیں مسافروں کے دستی سامان اور کارگو کی دوہری جانچ کا عمل انجام دے رہی ہیں۔ تجارتی طیاروں کی پروازوں میں بھی اضافی پروٹوکول نافذ کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، جس کے تحت دریائے جہلم اور اس کے اطراف موجود ہاؤس بوٹس میں وسیع پیمانے پر سیکورٹی چیکنگ کا عمل بدھ کو انجام دیا گیا۔ جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیموں نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے ہاؤس بوٹوں اور ملحقہ علاقوں میں باریک بینی سے تلاشی لی۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ کارروائی حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ممکنہ سیکورٹی خطرے کو قبل از وقت ناکام بنانے کے لئے انجام دی گئی۔ فورسز نے نہ صرف ہاؤس بوٹس میں قیام پذیر مقامی و غیر مقامی افراد کی دستاویزات کی جانچ کی بلکہ وہاں موجود سامان، کمروں اور مشترکہ جگہوں کی بھی مکمل تلاشی لی۔
عینی شاہدین کے مطابق، بڑی تعداد میں فورسز اہلکار جھیل کے مختلف پوائنٹس پر تعینات تھے، جبکہ کچھ ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے پانی میں گشت کرتی رہیں۔ ہاؤس بوٹ مالکان اور سیاحوں سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی اور انہیں سرچ آپریشن کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ امت شاہ کے دورے کے دوران اُن کی مصروفیات اور سفر کے پیش نظر شہر میں سیکورٹی کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا ہے، اسی سلسلے میں ہاؤس بوٹس، ہوٹلوں اور دیگر حساس مقامات پر بھی چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
فورسز نے واضح کیا ہے کہ یہ سرچ آپریشن احتیاطی اقدام ہے اور ابھی تک کسی مشتبہ چیز یا شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ شہریوں اور سیاحوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تعاون جاری رکھیں تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رہے۔
ادھربدھ کی صبح آبی گزر علاقے میں سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کیا۔ یہ کارروائی دورے سے پہلے کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے کو ناکام بنانے اور شہر میں امن و امان یقینی بنانے کے سلسلے کا اہم حصہ ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کے دستوں نے آبی گزر اور اس کے اطراف کو اچانک محاصرے میں لیا۔ علاقے کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کرکے ہر آنے جانے والے شخص سے پوچھ گچھ کی گئی۔ فورسز نے مشکوک گلیوں، دکانوں، رہائشی عمارتوں اور خالی مقامات کی باریک بینی سے تلاشی لی، جبکہ کئی گھروں میں سرچ ٹیمیں بھی داخل ہوئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے تین روزہ دورے کے دوران وہ جموں اور سری نگر میں اعلیٰ سطحی میٹنگوں کی صدارت کریں گے۔ اس کے پیش نظر شہر میں سکیورٹی کا جال مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی ایک روٹین سکیورٹی آپریشن کا حصہ ضرور ہے، مگر دورے کے تناظر میں اسے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ تاحال کسی مشتبہ شخص یا چیز کی برآمدگی نہیں ہوئی ہے، تاہم فورسز نے واضح کیا ہے کہ علاقے میں معمول سے زیادہ گشت اور نگرانی آئندہ چند دنوں تک برقرار رہے گی۔
ادھم پور اور سانبہ میں فوج نے گشت کو دوگنا کر دیا ہے۔ بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے ساتھ اضافی لائٹنگ، تھرمل امیجنگ کیمروں اور پیٹرولنگ سسٹم کا نفاذ کر دیا ہے۔ رات کے اوقات میں آئی آر نیٹ ورک کے ذریعے ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ ممکنہ طور پر سرحدی چوکیوں کا جائزہ بھی لیں گے، اس لیے متعلقہ علاقوں میں نفری تعینات ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل نگرانی کو بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ وزیر داخلہ کے دورے کے دوران معمولات زندگی میں بلاوجہ رکاوٹ نہ آئے لیکن سیکورٹی پروٹوکول سختی سے نافذ کیا جائے۔ سڑکوں پر ٹریفک پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ چیکنگ کے دوران ٹریفک جام نہ ہو۔
فورسز کے مطابق یہ اقدامات محض احتیاطی نوعیت کے ہیں اور وزیر داخلہ کے دورے کی حساسیت کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سکیورٹی انتظامات میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔










