جاری مالی سال کے پہلے ۶ ماہ میںدو کروڑ۳۰لاکھ روزگار فراہم کیے گئے:اقتصادی سروے
نئی دہلی: لوک سبھا میں جمعرات کو پیش کیے گئے مالی سال۲۰۲۵۔۲۰۲۶کے اقتصادی سروے کے مطابق مناسب ہنر کی ترقی، کاروباری جذبہ اور حکومت کی کئی اہم پہلوں کے ذریعے ملک میں بے روزگاری میں مسلسل کمی لانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور محنت کش طبقے کو فلاحی تحفظ فراہم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
مرکزی وزیر خزانہ ‘ نرملا سیتارمن نے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں نیشنل کیریئر سروس پورٹل کے ذریعے دو کروڑ۳۰لاکھ روزگار فراہم کیے گئے۔ ای-شرم پورٹل کے ذریعے۳۱کروڑ سے زیادہ رجسٹرڈ غیر منظم مزدوروں کو سماجی تحفظ کے دائرے میں لایا گیا۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ نئی مزدور کوڈ مزدوروں کی فلاح اور آجرین کے لیے کاروبار میں آسانی کو یقینی بنا رہی ہیں۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کے باعث دیہی علاقوں میں خود روزگاری بڑھی ہے اور۱۲کروڑ۹۰لاکھ افراد (جن میں۲۸فیصد خواتین ہیں) غیر زرعی غیر منظم شعبے کو تشکیل دے رہے ہیں۔ ایک اہم کامیابی کے طور پر بتایا گیا ہے کہ مالی سال۲۰۲۱سے مالی سال۲۰۲۵کے درمیان گیگ مزدوروں کی تعداد میں۵۵فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سروے کے مطابق مزدور پر مبنی شعبوں کو فروغ دینے اور ہنر کی ترقی کو مضبوط کرنے کے مقصد سے حالیہ اقدامات سے معیاری روزگار اور مزدور قوت بڑھانے کے لیے حکومت کی نئی وابستگی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کا مقصد آبادیاتی فائدے کا پورا استعمال کرنا ہے۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ ڈھانچاتی اصلاحات، ٹیکس کو معقول بنانے اور ہنر کی ترقی پر مسلسل توجہ دینے سے حالیہ برسوں میں ملک میں روزگار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ضابطوں میں نرمی، جی ایس ٹی 2.0 اور ریاستوں کی جانب سے نافذ مزدور اصلاحات جیسے اقدامات نے صنعت اور خدمات کے شعبوں میں مزدور قوت کی شمولیت اور روزگار میں اضافہ کو فروغ دیا ہے۔
ملک میں حالیہ برسوں میں خواتین کی مزدور قوت شمولیت کی شرح (ایف ایل ایف پی آر) میں مثبت رجحان دیکھا گیا ہے جو۲۰۱۷۔۱۸میں 23.3 فیصد سے بڑھ کر۲۰۲۳۔۲۴میں 41.7 فیصد ہو گئی ہے۔ اسی مدت میں بے روزگاری کی شرح 5.6 فیصد سے گھٹ کر صرف 3.2 فیصد رہ گئی ہے۔
سروے میں پی ایل ایف ایس (پی ایل ایف ایس) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اپریل سے ستمبر۲۰۲۵کے دوران بے روزگاری کی شرح میں کمی، مزدور قوت شمولیت میں استحکام اور روزگار کی بلند سطح درج کی گئی ہے، جو روزگار کے حالات میں بہتری کا اشارہ ہے۔ مالی سال۲۰۲۵۔۲۶کی دوسری سہ ماہی میں۱۵سال اور اس سے زیادہ عمر کے کل 56.2 کروڑ افراد روزگار میں تھے، جو پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں تقریباً 8.7 لاکھ نئے روزگار کے مواقع کو ظاہر کرتا ہے۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ دیہی روزگار میں زرعی مزدوروں (57.7 فیصد) اور خود روزگار (62.8 فیصد) کا غلبہ ہے، جن میں خواتین مزدوروں کی شمولیت نسبتاً زیادہ ہے۔ اس کے برعکس شہری روزگار زیادہ تر خدماتی شعبے (62.0 فیصد) میں مرکوز ہے، جہاں باقاعدہ تنخواہ یا اجرتی نوکریاں سب سے بڑا حصہ (49.8 فیصد) بناتی ہیں۔
منظم مینوفیکچرنگ شعبے کو کور کرنے والے صنعتوں کے سالانہ سروے (اے ایس آئی) کے مالی سال۲۰۲۳۔۲۴کے نتائج مینوفیکچرنگ شعبے کی مضبوطی کو ظاہر کرتے ہیں، جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں روزگار میں۶فیصد سالانہ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مالی سال۲۰۲۲۔۲۳کے مقابلے میں مالی سال۲۳۲۰۔۲۴میں۱۰لاکھ سے زیادہ نئے روزگار جڑے۔
اقتصادی سروے کے مطابق’مالی سال۲۰۱۴۔۱۵سے مالی سال۲۰۲۳۔۲۴کے درمیان گزشتہ ایک دہائی میں اس شعبے میں۵۷لاکھ سے زیادہ روزگار پیدا ہوئے، جس میں۴فیصد کی کمپاؤنڈ سالانہ شرح نمو رہی‘‘۔
غیر منظم شعبے کے اداروں کے سہ ماہی بلیٹن (کیو بی یو ایس ای) کے مطابق، غیر زرعی غیر منظم شعبے میں کل 7.9 کروڑ ادارے ہیں، جن میں 12.9 کروڑ افراد کام کر رہے ہیں۔ اس شعبے میں کل ملازمین میں کام کرنے والے مالکان کا حصہ۲۰۲۳۔۲۴میں 58.9 فیصد سے بڑھ کر مالی سال۲۰۲۵۔۲۶کی دوسری سہ ماہی میں۶۰فیصد ہو گیا ہے، جو خود روزگاری اور کاروباری سرگرمیوں کی طرف بڑھتے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ اس شعبے میں دیہی مزدور قوت مالی سال۲۰۲۵۔۲۶کی دوسری سہ ماہی میں چھ کروڑ تھی، جو دیہی اقتصادی سرگرمیوں میں غیر منظم اداروں کے اہم کردار کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس شعبے کی مزدور قوت میں خواتین کی شمولیت 28.7 فیصد ہے۔ غیر زرعی غیر منظم شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن کا بڑھتا رجحان کاروباری یونٹوں میں انٹرنیٹ کے بڑھتے استعمال سے ظاہر ہوتا ہے، جو۲۰۲۳۔۲۴میں۲۶فیصد سے بڑھ کر مالی سال۲۰۲۵۔۲۶کی دوسری سہ ماہی میں۳۹فیصد ہو گیا ہے۔










