سری نگر: ڈل جھیل میں شِکارا کی سیر، برف سے ڈھکی پہاڑیاں جو کسی تصویری پوسٹ کارڈ کا منظر پیش کر رہی ہیں، الاؤ کے پاس بیٹھ کر ’سنو باتھ‘ ۔متحدہ عرب امارات میں مقیم سوشل میڈیا انفلوئنسر خالد العامری اعتراف کرتے ہیں کہ برفانی جنت کشمیر نے انہیں مکمل طور پر مسحور کر دیا ہے۔
۴۲ سالہ اسٹینفورڈ گریجویٹ، جن کے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تقریباً ایک کروڑ اسی لاکھ فالوورز ہیں، کہتے ہیں کہ وہ دبئی سے تقریباً چار گھنٹے کا سفر طے کر کے کشمیر پہنچے اور برف میں لپٹی وادی کے پُرسکون مناظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔
کشمیر کے کئی علاقوں، خاص طور پر سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام میں ’چلۂ کلان‘ کے آخری ایام میں برفباری ہوئی ہے۔ چلۂ کلان سردیوں کا وہ۴۰روزہ سخت دور ہوتا ہے جس میں رات کے درجۂ حرارت اکثر نقطۂ انجماد سے کئی درجے نیچے چلے جاتے ہیں اور برفباری کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔
گزشتہ چار دنوں سے کشمیر میں قیام پذیر خالد العامری نے اپنے سفر کے دوران متعدد ویڈیوز شیئر کیں، جن میں ڈل جھیل میں پھرن پہنے شِکارا کی سواری بھی شامل ہے۔ ایک اور ویڈیو میں انہیں گلمرگ میں’سنو باتھ‘ لیتے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں شدید برفباری کے باعث دن کا درجۂ حرارت بھی نقطۂ انجماد کے قریب رہا ہے۔
انہوں نے فیس بک پر لکھا’’دبئی سے تقریباً چار گھنٹے کا سفر، اور سامنے برفانی جنت ایسی خوبصورتی جو تصور سے باہر ہے، ماشاء اللہ‘‘۔
خالد العامری اس پُرتپاک استقبال سے بھی خاصے متاثر نظر آئے جو انہیں کشمیر میں ملا۔انہوں نے لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں لکھا،’’کشمیر کی خوبصورتی صرف ان تصویروں یا ویڈیوز تک محدود نہیں جو ہم دیکھتے ہیں۔ یہاں وقت گزارنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اس کی اصل خوبصورتی صرف مناظر میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ یہاں روایات کس طرح روزمرہ زندگی میں سانس لیتی ہیں۔ڈل جھیل کے کنارے پھرن پہننا مجھے ایک ایسی ثقافت کی جھلک دکھا گیا جو عمل، صبر اور فخر کے ساتھ نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے، چاہے دنیا اس کے ارد گرد کتنی ہی بدل کیوں نہ جائے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے سفر نے انہیں یہ احساس دلایا کہ’’بامعنی مقامات کی پہچان صرف ان کی ظاہری شکل سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ کس طرح جیتے ہیں۔ اور اکثر سب سے اہم باتیں وہ ہوتی ہیں جو کیمرے کی آنکھ سے پوری طرح منتقل نہیں ہو پاتیں‘‘۔
خالد العامری کے مطابق’’کشمیر میں ایک ایسا سکون ہے جو مناظر سے آگے جاتا ہے۔ یہ سکون خاموشی میں، آہستہ رفتار زندگی میں اور اس گنجائش میں ہے جو انسان کو صاف سوچنے کا موقع دیتی ہے۔ ایسے لمحات ہمیں سکھاتے ہیں کہ ترقی ہمیشہ زیادہ کرنے سے نہیں آتی، بلکہ کبھی کبھی پیچھے ہٹ کر خود کو دوبارہ ہم آہنگ کرنے سے بھی حاصل ہوتی ہے‘‘۔
اپنے فالوورز کو ایک لطیف دعوت دیتے ہوئے انہوں نے کہا’’زندگی اور کام دونوں میں، وضاحت اکثر تب ملتی ہے جب ہم خود کو آہستہ چلنے، سننے اور جلدبازی کے بجائے شعوری انداز میں آگے بڑھنے کی اجازت دیتے ہیں‘‘۔
ادھر حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سیاحت کا شعبہ، جسے گزشتہ برس پہلگام میں دہشت گردانہ حملے اور بعد ازاں خراب موسمی حالات کے باعث شدید نقصان پہنچا تھا، اب آہستہ آہستہ بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے، اور حالات بہتر ہونے کے ساتھ سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
چند روز قبل جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اٹل ڈلو نے کہا تھا کہ حکومت بڑھتی ہوئی سیاحتی آمد اور پائیدار ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سیاحتی حکمتِ عملی کا ازسرِ نو جائزہ لے رہی ہے۔










