جموں: جموں و کشمیر حکومت نے آج جموں ڈویژن کے سمر زون سے تعلق رکھنے والے دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کے لیے سالانہ باقاعدہ امتحانات میں۱۵ فیصد نصابی رعایت کا اعلان کیا۔
یہ فیصلہ گزشتہ برس طویل خراب موسمی حالات اور جنگ جیسے ماحول کے باعث تعلیمی سرگرمیوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ محکمہ تعلیم ان تمام عوامل سے بخوبی واقف تھا اور فیصلہ کرنے سے قبل طلبہ اور والدین سے موصول ہونے والی آرا کو بھی پیش نظر رکھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر متعلقہ فریقین سے بھی رائے حاصل کی گئی اور طلبہ کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ اگست میں آنے والے سیلاب نے اسکولوں کے معمول کے تعلیمی نظام کو بری طرح متاثر کیا، جس کے نتیجے میں نصاب کی بروقت تکمیل ممکن نہ ہو سکی۔
سکینہ نے کہا’’اس طرح کے اقدام سے تعلیمی توازن برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اور سمر زون کے طلبہ کو کسی بھی طرح کی ناانصافی یا نقصان دہ صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا‘‘۔
سکینہ ایتو نے کہا کہ حکومت سرکاری تعلیمی اداروں میں بنیادی ڈھانچے اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور کشمیر و جموں کے ونٹر زون علاقوں میں دسویں اور بارہویں جماعت کے حالیہ نتائج سرکاری اسکولوں کے تعلیمی نظام میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ حکومت طلبہ کو ایسا سازگار ماحول فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جو انہیں اپنے تعلیمی خوابوں کی تکمیل میں مدد دے، اور سرکاری اسکولوں کو تعلیمی فضیلت کے مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
وزیر تعلیم کے مطابق طویل المدتی منصوبہ جموں و کشمیر کو نالج اکانومی میں تبدیل کرنا اور طلبہ کو جدید علم اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے لیس ایک مؤثر انسانی وسائل میں ڈھالنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے اساتذہ کی تدریسی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ اور مطلوبہ سطح کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع ناگزیر ہوگی۔
آخر میں وزیر تعلیم نے طلبہ کو نیک تمناؤں کے ساتھ مشورہ دیا کہ وہ آنے والے سالانہ امتحانات کے لیے مزید محنت کریں، جو دسویں جماعت کے لیے۱۷فروری، بارہویں جماعت کے لیے۲۳فروری اور گیارہویں جماعت کے لیے۲۸ فروری سے شروع ہو رہے ہیں۔










