سرینگر:۲۲جنوری کو غذائی اجناس (چاول) سے لدی پہلی مکمل ریل گاڑی اننت ناگ پہنچی، جو کشمیر وادی تک مال برداری کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی اور خطے کے لیے ہمہ موسمی ریل رابطے کی مضبوطی کا عملی مظاہرہ بھی ہے۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہے کہ۴۲ویگنوں پر مشتمل مکمل ریل گاڑی، جس میںدوہزار۷۶۸ میٹرک ٹن چاول لدا ہوا تھا، براہِ راست ریل کے ذریعے اننت ناگ گڈز شیڈ تک پہنچائی گئی۔ یہ کامیابی فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے ساتھ مسلسل تال میل کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جس کا مقصد لاجسٹکس کے اخراجات میں کمی لانا تھا۔
اس سے قبل صرف منی ریکس، جن میں۲۱ویگنیں اور۱۳۸۴میٹرک ٹن غذائی اجناس ہوتی تھیں، ریل کے ذریعے منتقل کی جاتی تھیں۔ تاہم اس مرتبہ پنجاب کے سنگرور ریل ٹرمینل سے۲۱جنوری کو مکمل ریل گاڑی لوڈ کی گئی اور۲۴گھنٹوں کے اندر اسے اننت ناگ پہنچایا گیا۔
اگرچہ ایک دن قبل خراب موسم کے باعث ان لوڈنگ سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں، اس کے باوجود اس ریل گاڑی کو کامیابی کے ساتھ سنبھالا گیا، جس سے وادی میں غذائی اجناس کی سپلائی چین اور تقسیم کے نظام کو زبردست تقویت ملی۔
یہ سنگِ میل کشمیر وادی میں غذائی اجناس کی تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم آغاز کی علامت ہے۔ منی ریکس اور سڑک کے ذریعے نقل و حمل سے مکمل صلاحیت کی حامل ریل گاڑیوں کی جانب منتقلی سے مجموعی لاجسٹکس اور فریٹ لاگت میں نمایاں کمی متوقع ہے، جبکہ ضروری اشیاء کی تیز تر اور قابلِ اعتماد ترسیل بھی یقینی بنے گی۔ اس سے بالخصوص خراب موسمی حالات کے دوران وادی میں مناسب بفر اسٹاک برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اور مقامی گھریلو صارفین کے لیے غذائی اجناس کی دستیابی بہتر ہو سکے گی۔
قومی شاہراہوں پر بھاری ٹرکوں پر انحصار میں کمی سے ماحولیاتی فوائد بھی حاصل ہوں گے اور مجموعی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ سیب، سیمنٹ، کھاد اور اب غذائی اجناس کی کامیاب ترسیل کے بعد ریل پر مبنی لاجسٹکس نظام خطے میں معاشی سرگرمیوں کے تسلسل، لچک اور طویل مدتی سپلائی چین کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت ادھم پورسری نگربارہمولہ ریل لنک (یو ایس بی آر ایل) کے انقلابی اثرات کو اجاگر کرتی ہے، جو آزاد بھارت کے سب سے اہم اور بڑے ریلوے انجینئرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں جب وادی شدید برفباری اور سخت سردیوں کے حالات سے گزر رہی ہے، بہتر ریل رابطہ تجارت اور لاجسٹکس کو مضبوط بنا رہا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ کسانوں، تاجروں اور عام گھریلو صارفین کو پہنچ رہا ہے اور ضروری اشیاء تک زیادہ قابلِ اعتماد رسائی ممکن ہو رہی ہے۔










