سرینگر: حکام کے مطابق، جمعہ کو وسیع پیمانے پر برفباری، تیز ہواؤں اور بارش کے بعد ہفتہ کے روز کشمیر میں موسم بہتر ہو گیا، تاہم وادی بھر میں رات کے درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے ریکارڈ کیے گئے۔
حکام نے بتایا کہ بعض علاقوں، بالخصوص کشمیر کے بالائی حصوں میں، جمعہ کی رات دیر گئے تک وقفے وقفے سے برفباری اور بارش ہوتی رہی۔
جمعہ کے روز کشمیر کے بیشتر علاقوں میں قابلِ ذکر برفباری ہوئی، جبکہ سری نگر کے بعض حصوں میں موسم کی پہلی، اگرچہ ہلکی، برفباری ریکارڈ کی گئی۔ حکام کے مطابق گزشتہ۲۴گھنٹوں کے دوران وادی کے بیشتر مقامات، خاص طور پر بالائی علاقوں میں درمیانی سے شدید برفباری ریکارڈ کی گئی، جبکہ میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی برفباری ہوئی۔
حکام نے کہا کہ ہفتہ کی صبح سے موسم میں بہتری دیکھی گئی ہے، تاہم محکمۂ موسمیات نے ہفتہ اور اتوار کو چند مقامات پر ہلکی بارش اور برفباری کی پیش گوئی کی ہے۔
حکام کے مطابق پیر کے روز ایک اور مغربی خلل جموں و کشمیر کو متاثر کرنے کا امکان ہے، جس کے زیرِ اثر پیر کی رات سے منگل کی دوپہر تک بیشتر مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش یا برفباری متوقع ہے، جبکہ چند مقامات پر گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ شدید وقفے بھی ہو سکتے ہیں۔
اس کے بعد۳فروری تک موسم زیادہ تر خشک رہنے کا امکان ہے، تاہم آسمان جزوی طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے۔
ادھر جمعہ کی رات سری نگر میں کم از کم درجۂ حرارت منفی 1.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ سری نگر ہوائی اڈے پر، جہاں شدید برفباری کے باعث پروازیں معطل کر دی گئی تھیں، رن وے سے برف ہٹائے جانے کے بعد فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہو گیا۔
شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں واقع گلمرگ جموں و کشمیر کا سرد ترین مقام رہا، جہاں کم از کم درجۂ حرارت منفی 12.0 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔
وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں واقع سیاحتی مقام سونمرگ دوسرے نمبر پر سرد ترین رہا، جہاں درجۂ حرارت منفی 10.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ ہوا۔
جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام، جو سالانہ امرناتھ یاترا کے بیس کیمپوں میں سے ایک بھی ہے، میں کم از کم درجۂ حرارت منفی 7.6 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔
وادی کے دروازے کہلانے والے قصبے قاضی گنڈ میں کم از کم درجۂ حرارت منفی 4.2 ڈگری سیلسیس رہا، جبکہ کوکرناگ میں منفی 6.2 ڈگری سیلسیس اور کپواڑہ میں منفی 4.0 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔
کشمیر وادی اس وقت ’چِلّۂ کلاں‘ کے زیرِ اثر ہے، جو شدید سردی کا ۴۰روزہ دورانیہ ہوتا ہے، جس دوران رات کے درجۂ حرارت اکثر کئی ڈگری تک نقطۂ انجماد سے نیچے گر جاتے ہیں اور برفباری کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔’چِلّۂ کلاں‘ کا آغاز گزشتہ برس۲۱دسمبر کو ہوا تھا اور یہ۳۰جنوری کو اختتام پذیر ہوگا۔
اس دوران موسمیات محکمے کی طرف سے جاری ایڈوائزری کے مطابق۲۶جنوری کی شام دیر گئے سے۲۷جنوری کی شام تک کہیں کہیں درمیانی سے بھاری برف باری ہوسکتی ہے اور اس دوران تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔انہوں نے مسافروں اور ٹرانسپورٹروں سے کہا ہے کہ وہ متعلقہ حکام سے سڑکوں/ شاہراہوں کی تازہ صورتحال معلوم کریں اورانتظامیہ کے مشوروں پر عمل کریں۔
ایڈوائزری میں کسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ۲۸جنوری تک اپنے کام معطل رکھیں۔انہوں نے بالائی علاقوں کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ڈھلوان اور برفانی تووں کے خطرے والے علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔
ادھرحکام کے مطابق، برفباری کے بعد مختلف مقامات پر سڑک کے پھسلن زدہ ہونے کے باعث مسلسل دوسرے روز بھی بند رہنے والی سری نگر،جموں قومی شاہراہ اور دیگر اہم سڑکوں پر ہفتہ کے روز ٹریفک بحال کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر صفائی کارروائیاں جاری رہیں۔
حکام نے بتایا کہ۲۷۰کلومیٹر طویل جموںسری نگر قومی شاہراہ‘ جو کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والی واحد ہمہ موسمی سڑک ہے‘ پر پھنسے سینکڑوں مسافروں کو فوج، پولیس اور سول انتظامیہ نے محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور انہیں خوراک و پناہ فراہم کی۔
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، ٹریفک نیشنل ہائی وے (بانہال)، ایس پی سنگھ نے کہا کہ این ایچ۴۴پر برف ہٹانے کی کارروائیاں آخری مراحل میں ہیں اور دونوں اطراف پھنسے ہوئے گاڑیوں کو ترجیحی بنیادوں پر نکالا جائے گا۔
سنگھ نے بتایا کہ رام بن سیکٹر میں۹۰۰ سے زائد گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، جبکہ۲۰۰۰ سے زائد دیگر گاڑیاں، جن میں ضروری اشیاء لے جانے والے ٹرک بھی شامل ہیں، جموں، اودھم پور، کولگام اور اننت ناگ اضلاع کی جانب روانگی کے لیے گرین سگنل کی منتظر ہیں۔
ڈی ایس پی نے کہا کہ رامسو،بانہال سیکٹر میں شاہراہ کے بعض حصے پھسلن زدہ ہیں اور سڑک صاف کرنے والی ایجنسیاں محفوظ ڈرائیونگ کے لیے سڑک پر نمک اور یوریا چھڑک رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پھنسے ہوئے گاڑیوں کی نکاسی کے بعد معمول کی ٹریفک بحال ہونے کا امکان ہے۔
قومی شاہراہ حور پر غیر معمولی برفباری اور شدید موسمی حالات کے دوران فوج نے ایک بار پھر انسانی ہمدردی اور آفات سے نمٹنے کی کارروائیوں میں اپنے پختہ عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاحوں سمیت پھنسے افراد کو بروقت مدد فراہم کی۔
ایک فوجی افسر نے بتایا کہ ناچلانہ آرمی کیمپ سے تعلق رکھنے والے دستوں نے شدید برفباری، سڑکوں کی بندش اور منفی درجہ حرارت کے باعث پیدا ہونے والی متعدد ہنگامی صورتحال پر فوری کارروائی کی۔
افسر نے کہا کہ این ایچ۴۴کے مختلف مقامات پر شہریوں اور سیاحوں کو لے جانے والی کئی گاڑیاں پھنس گئی تھیں، جس کے نتیجے میں بزرگ افراد، خواتین، بچے اور مرد سخت موسم میں خوراک، پانی اور طبی سہولیات کے بغیر محصور ہو گئے تھے۔
فوجی اہلکار فوری طور پر متاثرہ افراد تک پہنچے اور انہیں خوراک، پینے کا پانی، گرم چائے اور ابتدائی طبی امداد فراہم کی، جس سے تمام ضرورت مند افراد کی سلامتی اور راحت کو یقینی بنایا گیا۔
ایک متوازی کارروائی میں، وارئیرز تائیکوانڈو اکیڈمی کے۳۲مارشل آرٹس کیڈٹس، اپنے کوچز اور والدین کے ہمراہ، اچانک اور شدید برفباری کے باعث ناچلانہ کے قریب پھنس گئے۔
فوجی افسر نے بتایا’’خوراک، پانی اور پناہ تک رسائی نہ ہونے کے باعث اس گروپ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر کم عمر بچوں کو۔ ہمدردی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوجی دستوں نے انہیں ناچلانہ کیمپ منتقل کیا، جہاں انہیں گرم کھانا، پینے کا پانی، ابتدائی طبی امداد، گرم کپڑے اور محفوظ رہائش فراہم کی گئی، یہاں تک کہ موسم بہتر ہوا اور برفباری رک گئی‘‘۔
حکام نے بتایا کہ سنگلدان ریلوے اسٹیشن پر پھنسے مسافروں اور مقامی ریلوے اہلکاروں کی جانب سے موصول ہونے والی ہنگامی کال پر، سنگلدان آرمی کیمپ کے فوجی دستے برفباری میں پیش قدمی کرتے ہوئے جمعہ کے روز۶۵پھنسے ہوئے مسافروں کو ضروری اشیاء فراہم کرنے پہنچے۔
ٹریفک محکمہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ جموں،سری نگر قومی شاہراہ کے علاوہ مغل روڈ، سنتھن ٹاپ روڈ، سرینگر،لہہ قومی شاہراہ اور مختلف اضلاع کی درجنوں دیگر سڑکوں پر بھی برفباری کے باعث ٹریفک معطل رہی۔انہوں نے کہا’’لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ مکمل بحالی اور ٹریفک کے لیے محفوظ قرار دیے جانے تک ان سڑکوں پر سفر نہ کریں‘‘۔
بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) بھی جموں،راجوری،پونچھ قومی شاہراہ کو بحال کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر برف ہٹانے کی کارروائی انجام دے رہی ہے۔
بی آر او کے ایک اہلکار نے بتایا کہ جمعہ کے روز شدید برفباری کے بعد اسٹریٹجک طور پر اہم یہ شاہراہ راجوری کے بی جی اور پونچھ کے جرّن والی گلی کے درمیان بند ہے۔انہوں نے کہا کہ بی آر او کا عملہ اور مشینری سڑک کی بحالی اور اسے ٹریفک کے لیے کھولنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔
جموں خطے کے بیشتر علاقوں میں، جن میں مشہور سیاحتی مقامات پٹن ٹاپ، نتھا ٹاپ اور بھدرواہ شامل ہیں، جمعہ کے روز درمیانی سے شدید برفباری ہوئی، جبکہ جموں شہر سمیت میدانی علاقوں میں بارشوں نے دو ماہ سے زائد عرصے پر محیط خشک سالی کا خاتمہ کیا۔ جموں کے بعض علاقوں، جیسے راجوری قصبہ اور ڈوڈہ و اودھم پور کے کچھ حصوں میں ایک دہائی سے زائد عرصے بعد برفباری ریکارڈ کی گئی۔










