جموں: مسلسل دوسرے دن آج وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آئندہ بجٹ اجلاس کے پیش نظر متعدد اہم محکموں کے ساتھ قبل از بجٹ مشاورتی اجلاس منعقد کیے، جن کا مقصد ترجیحات، شعبہ جاتی ضروریات اور ترقیاتی تقاضوں کا جائزہ لینا تھا۔
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس۲ فروری سے شروع ہونے والا ہے۔
وزیر اعلیٰ، جو خود محکمہ خزانہ کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں، نے سماجی بہبود، صحت و طبی تعلیم، اسکولی تعلیم، اعلیٰ تعلیم، محکمہ تعمیراتِ عامہ (سڑکیں و عمارات)، مائننگ، صنعت و تجارت اور محنت کے محکموں کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
ان اجلاسوں میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری اور وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود، اسکولی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم سکینہ ایتو بھی موجود تھیں۔
اجلاسوں کے دوران وزیر اعلیٰ نے شعبہ وار پیش رفت، جاری منصوبوں، بجٹ کے استعمال اور مستقبل کی ضروریات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حقیقت پسندانہ اور نتائج پر مبنی بجٹ سازی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوامی وسائل کو ان ترجیحی شعبوں کی طرف مرکوز کیا جا سکے جو براہِ راست عوام کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
محکموں کو عوام دوست اور کارکردگی پر مبنی حکمت عملی اپنانے کی ہدایت دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آنے والے بجٹ میں صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، سماجی تحفظ کے دائرے کو وسیع کرنے، سڑکوں کی بہتر رابطہ کاری، صنعتی فروغ اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محکمے منصوبوں کی بروقت تکمیل، عملدرآمد میں شفافیت اور خدمات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنائیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’بجٹ کو جموں و کشمیر کے عوام کی امنگوں کا عکاس ہونا چاہیے اور اس میں جامع ترقی، متوازن علاقائی پیش رفت اور پائیدار معاشی ترقی پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے‘‘۔
انہوں نے مزید ہدایت دی کہ محکمے حکومت کے ترقیاتی روڈ میپ اور مالی نظم و ضبط سے ہم آہنگ، منظم اور ضرورت پر مبنی تجاویز پیش کریں۔
گزشتہ روز وزیر اعلیٰ نے نو اہم محکموں کے ساتھ قبل از بجٹ مشاورت کا آغاز کیا تھا۔ یہ مشاورتی عمل۲۲جنوری کو باقی محکموں کے ساتھ مکمل ہوگا۔ان قبل از بجٹ مشاورتوں کا مقصد جموں و کشمیر کے لیے ایک جامع، ترقی پسند اور عوام دوست بجٹ کو حتمی شکل دینا ہے۔










