سرینگر: آئندہ مردم شماری کے عمل کے تحت جموں کشمیر بھر میں گھروں کی فہرست سازی (ہاؤس لسٹنگ آپریشنز ـ،ایچ ایل او) یکم جون سے۳۰جون تک انجام دی جائے گی، جبکہ خود شماری (سیلف اینیومریشن) کا آغاز فیلڈ آپریشن سے۱۵دن قبل ہوگا، حکام نے بدھ کے روز بتایا۔
حکام نے کہا کہ اس شیڈول کو یونین ٹیریٹری سطح کی مردم شماری رابطہ کمیٹی نے منگل کے روز یہاں چیف سیکریٹری اتل ڈلو کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں حتمی شکل دی، اور حکومت۳۱جنوری تک اس ضمن میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔
حکام کے مطابق، خود شماری کے عمل کو ہموار بنانے کے لیے فیلڈ آپریشن سے قبل۱۵دنوں کے دوران تکنیکی معاونین اور چارج افسران کی خدمات حاصل کی جائیں گی تاکہ عوام کی رہنمائی کی جا سکے۔
اجلاس کے دوران، ڈائریکٹر مردم شماری آپریشنز، جموں و کشمیر و لداخ، امیت شرما نے مردم شماری۲۰۲۷کے فریم ورک اور اہم خصوصیات پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ حکام نے بتایا کہ یہ بھارت کی پہلی مکمل طور پر ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی۔
پریزنٹیشن میں اہم جدتوں کو اجاگر کیا گیا، جن میں مردم شماری مینجمنٹ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم ، شہریوں کے لیے خود شماری کی سہولت، اور ذات پر مبنی شمار (کاسٹ اینیومریشن) شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مردم شماری کی سرگرمیوں کی ترتیب، جن میں تربیت، خود شماری، گھروں کی فہرست سازی اور آبادی کی مردم شماری شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ تفصیلی ٹائم لائنز بھی واضح کی گئیں۔
فیلڈ سطح پر مضبوط عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اجلاس میں یونین ٹیریٹری، ضلع اور چارج سطح پر مردم شماری۲۰۲۷کے لیے افرادی قوت کی فوری بھرتی کی منظوری دی گئی۔
حکام کے مطابق، ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ضلعی سطح کی مردم شماری سیلز قائم کریں اور رابطہ، تربیت اور نگرانی کے لیے افسران نامزد کریں، جبکہ ماسٹر ٹرینرز، سپروائزرز اور اینیومریٹرز کی بروقت نشاندہی کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری نے انتظامیہ اور مردم شماری ڈائریکٹوریٹ کے درمیان قریبی تال میل کی ضرورت پر زور دیا اور تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ مردم شماری کے ہموار، درست اور بروقت انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے مکمل تعاون فراہم کریں۔
انہوں نے اس قومی مشق کی کامیاب تکمیل کے لیے حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
(ایجنسیاں)










