موسمی سرگرمیاں زمینی اور فضائی آمدورفت میں خلل ڈال سکتی ہیں جن میںجموں،سرینگر قومی شاہراہ شامل ہے
سرینگر: محکمہ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی)، سری نگر نے ایک موسمی ایڈوائزری میں خبردار کیا ہے کہ۲۲جنوری سے۲۸جنوری۲۰۲۶کے دوران یکے بعد دیگرے دو مغربی ہوائیں (ویسٹرن ڈسٹربنسز) جموں و کشمیر اور ملحقہ علاقوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔
موسمیاتی مرکز سری نگر کی جانب سے ڈویژنل کمشنر جموں و کشمیر کو بھیجی گئی ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ پہلی مغربی ہوائیں۲۲جنوری سے۲۴جنوری کے دوران خطے کو متاثر کریں گی، جن کی شدت۲۳جنوری کو عروج پر ہوگی اور یہ نظام شدید نوعیت کا ہو سکتا ہے۔
دوسری مغربی ہوائیں۲۶جنوری کی رات سے۲۸جنوری کی قبل از دوپہر تک خطے کو متاثر کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جن کی شدت۲۷جنوری کو عروج پر ہوگی اور یہ معتدل نوعیت کی ہوں گی۔
ان موسمی نظاموں کے زیرِ اثر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں وسیع پیمانے پر ہلکی سے معتدل بارش اور برف باری کا امکان ہے، جبکہ بعض مقامات پر شدید بارش اور بھاری برف باری بھی ہو سکتی ہے۔ پہلی مغربی ہوائیں پیر پنجال سلسلے، بشمول جموں ڈویژن کی چناب وادی، اور جنوبی کشمیر کے وسطی و بالائی علاقوں، جن میں اننت ناگ، پہلگام، کولگام، شوپیان، پیر کی گلی، گلمرگ، سونمرگ۔زوجیلا محور، بانڈی پورہ۔رازدان پاس، کپواڑہ۔سَدھنا پاس اور ڈوڈہ، ادھم پور، ریاسی، کشتواڑ اور رام بن کے اضلاع شامل ہیں، میں شدید بارش اور برف باری کا سبب بن سکتی ہیں۔
دوسری مغربی ہوائیں بھی انہی علاقوں میں معتدل سے شدید بارش اور برف باری کا باعث بننے کی توقع ہے، خاص طور پر پیر پنجال سلسلے، چناب وادی اور جنوبی کشمیر کے وسطی و بالائی علاقوں میں۔
آئی ایم ڈی نے خبردار کیا ہے کہ یہ موسمی سرگرمیاں زمینی اور فضائی آمدورفت میں خلل ڈال سکتی ہیں، جن میں جموں۔سری نگر قومی شاہراہ اور بالائی علاقوں کی دیگر اہم سڑکیں شامل ہیں۔ مسافروں، سیاحوں اور ٹرانسپورٹروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نقل و حرکت کی پیشگی منصوبہ بندی کریں۔
برف سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ برفانی تودے گرنے کے خدشے والے اور ڈھلوانی علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔ کسانوں کو پیش گوئی کے عرصے کے دوران آبپاشی، کھاد کے استعمال اور کیمیائی اسپرے کو معطل رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ایڈوائزری میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ حساس مقامات پر۴۰سے۶۰کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز جھکڑ چلنے، لینڈ سلائیڈز اور کیچڑ کے تودے گرنے کا امکان ہے۔
یہ ایڈوائزری متعلقہ حکام کو ضروری احتیاطی اقدامات اٹھانے کے لیے اطلاع کے طور پر جاری کی گئی ہے۔
اس دوران متوقع بارشوں اور برفباری کی پیش گوئی کے بیچ شبانہ درجہ حرارت میں ایک بار پھر بہتری ریکارڈ ہوئی ہے جس سے لوگوں کو ٹھٹھرتی سردیوں سے کسی حد تک راحت نصیب ہوئی ہے ۔
کشمیر ویدر کے مطابق گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی1.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی4.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وسطی کشمیر میں واقع سیاحتی مقام سونہ مرگ وادی کا سردترین علاقہ رہا ہے جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی8.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
وادی کے سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی3.5 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی1.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
شمالی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی1.6 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی2.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی3.9 ڈگری سینٹی گریڈ، منفی5.1 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی4.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت یکساں منفی1.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی2.4 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی0.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
لداخ یونین ٹریٹری کے لیہہ اور کرگل اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی8.0 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی6.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وادی میں اگلے ایک ہفتے کے دوران وسیع پیمانے پر برف و باراں کا امکان ہے ۔










