جموں: جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (جے کے این سی) کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پیر کے روز پاکستان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ملک کبھی اپنا رویہ تبدیل نہیں کرے گا ۔
جے کے این سی کے بلاک صدور کے ایک پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے، سابق وزیر اعلیٰ نے کہا’’پاکستان کبھی اپنی روش نہیں بدلے گا‘‘۔انہوں نے تقسیمِ ہند کے دوران خطے کے بھارت سے الحاق کے تاریخی فیصلے کی توثیق کی۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا’’ہم نے۱۹۴۷میں بھارت کے ساتھ رہنے کا انتخاب کیا؛ ہمارا کبھی بھی پاکستان جانے کا ارادہ نہیں تھا‘‘۔
نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی وادی واپسی پر کوئی قدغن نہیں، اور اگر وہ لوٹنا چاہیں تو کشمیر ہمیشہ ان کے لیے کھلا ہے ۔ تاہم انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ تین دہائیوں کے بعد شاید زیادہ تر خاندان وادی میں مستقل طور پر رہائش اختیار کرنے کا ارادہ نہ رکھیں، کیونکہ وہ ملک کے مختلف حصوں میں اپنی نئی زندگیوں میں رچ بس چکے ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب کشمیری پنڈت برادری۱۹جنوری کو۱۹۹۰کے بڑے اخراج کی یاد میں ‘’ہولوکاسٹ ڈے ‘ منا رہی تھی۔
داکٹر فاروق نے کہا’’کون انہیں روک رہا ہے ؟ یہ اُن کا اپنا وطن ہے ۔ جو واپس آنا چاہیں، بے روک ٹوک آ سکتے ہیں۔ کئی کشمیری پنڈت تو آج بھی وادی میں اپنے گھروں میں مقیم ہیں‘‘۔
این سی صدر نے گزشتہ روز جگتی کیمپ کے نزدیک ہونے والے احتجاج کا بھی حوالہ دیا، جہاں درجنوں کشمیری پنڈت ’یوتھ ۴پنون کشمیر‘ کے بینر تلے جمع ہوئے اور ایک علیحدہ ہوم لینڈ کے قیام سمیت نسل کشی بل پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا مطالبہ کیا۔
جب این سی صدر سے ان مطالبات پر موقف پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ انہوں نے پنڈتوں کی باز آبادکاری کے لیے گھروں کی تعمیر اور سہولیات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر بعد میں حکومت کے گرنے کے ساتھ یہ ذمہ داری مرکز کے پاس چلی گئی۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اصل مسئلہ حالات نہیں بلکہ وقت کے ساتھ بدلتی ترجیحات ہیں۔’’زیادہ تر پنڈت خاندان اب دہلی، جموں اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں آباد ہو چکے ہیں۔ ان کی نئی نسلیں تعلیم اور روزگار سے وابستہ ہیں۔ عمر رسیدہ افراد کے لیے بھی بہتر طبی سہولیات وہیں دستیاب ہیں۔ ایسے میں مستقل واپسی کا فیصلہ آسان نہیں‘‘۔
ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ بہت سے پنڈت کشمیر ضرور آئیں گے ، اپنے آبائی گھروں کا دورہ کریں گے ، مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ دوبارہ وہیں رہنے کا فیصلہ بھی کریں۔










