سرینگر: ایران میں احتجاجی مظاہروں اور تہران کی سخت کارروائی کے پس منظر میں متعدد بھارتی شہری، جن میں جموںکشمیر کے طلبہ بھی شامل ہیں، کمرشل پروازوں کے ذریعے بھارت واپس پہنچ گئے ہیں۔ ان مظاہروں میں اب تک۲۵۰۰سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
یہ پروازیں جمعہ کی رات دیر گئے دہلی ہوائی اڈے پر اتریں۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کمرشل پروازوں کے ذریعے کتنے بھارتی شہری وطن واپس آئے ہیں۔
ایران سے واپس آنے والے۱۲سے۱۳مسافروں کے ایک گروپ کا حصہ علی نقوی نے ہوائی اڈے پر بتایا کہ انہیں ایران میں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔انہوں نے کہا’’ہم تہران سے واپس آئے ہیں۔ اس سے پہلے ہم عراق میں تھے، پھر ایران گئے۔ وہاں آٹھ دن قیام کے بعد ہم بھارت لوٹے ہیں‘‘۔
شیراز کے ایک میڈیکل کالج میں زیرِ تعلیم ایک طالبہ نے بتایا کہ انٹرنیٹ سروس بند ہونے کے باعث انہیں ملک میں ہونے والی صورتحال کے بارے میں درست معلومات حاصل نہیں ہو پا رہی تھیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جس شہر میں وہ مقیم تھیں وہاں حالات ’ٹھیک‘ تھے۔
طالبہ کے مطابق،’’ہم اپنی مرضی سے کمرشل پرواز کے ذریعے واپس آئے ہیں، یہ بھارتی حکومت کے کسی خصوصی انتظام کے تحت نہیں تھا‘‘۔
جمعہ کی رات دہلی ہوائی اڈے پر بڑی تعداد میں لوگ اپنے ایران سے واپس آنے والے رشتہ داروں کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ اگرچہ کئی افراد تشویش میں مبتلا دکھائی دیے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ تہران میں بھارتی سفارت خانہ دستیاب ذرائع کے ذریعے وہاں موجود بھارتی شہریوں کو مسلسل اطمینان دلا رہا ہے۔
عباس قاظمی، جن کی والدہ اور خالہ ایران سے واپس آئی ہیں، نے کہا’’انٹرنیٹ بند ہونے کے دوران یقیناً تشویش تھی، کیونکہ یہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا تھا۔ لیکن جیسے ہی رابطہ بحال ہوا، ہمیں اندازہ ہوا کہ حالات قابو میں ہیں۔ اس سے ہمیں تسلی ہوئی۔ ہم نے ایڈوائزری جاری ہوتے ہی سفارت خانے میں رجسٹریشن کروا دی تھی۔ چونکہ میری والدہ کی پرواز پہلے سے طے تھی، اس لیے سب کچھ بخوبی ہو گیا‘‘۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ اس وقت تقریباً۹ہزار بھارتی شہری ایران میں مقیم ہیں، جن میں اکثریت طلبہ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے علاوہ ملاح، زائرین اور کاروبار سے وابستہ افراد بھی ایران میں رہائش پذیر ہیں۔
جیسوال کے مطابق، حالیہ صورتحال کے پیش نظر حکومت ہند نے دو سے تین ایڈوائزریاں جاری کی ہیں، جن میں بھارتی شہریوں کو اس وقت ایران کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا’’ایران میں موجود بھارتی شہریوں کو بھی دستیاب کسی بھی ذریعے سے ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ کمرشل پروازیں اب بھی چل رہی ہیں اور اس آپشن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے‘‘۔انہوں نے واضح کیا کہ نئی دہلی ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور بھارتی شہریوں کی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے جو بھی ضروری ہوگا، حکومت پوری طرح پرعزم ہے۔
واضح رہے کہ ایران گزشتہ کئی ہفتوں سے شدید احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں ہے، جن کی بنیادی وجہ مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں نمایاں گراوٹ ہے۔ یہ احتجاج گزشتہ ماہ کے آخر میں تہران سے شروع ہوئے، جب ایرانی کرنسی ریال تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔
بعد ازاں یہ مظاہرے ملک کے تمام۳۱ صوبوں تک پھیل گئے اور معاشی مطالبات سے آگے بڑھ کر سیاسی تبدیلی کے مطالبے میں تبدیل ہو گئے۔
اس دوراب جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے ہفتہ کے روز بتایا کہ ایران سے تین درجن سے زائد کشمیری طلبہ بحفاظت بھارت واپس آ گئے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ طلبہ ایران سے چلنے والی دو کمرشل پروازوں کے ذریعے وطن لوٹے۔
ایک گروپ نے شیراز سے شارجہ کے راستے دہلی تک کنیکٹنگ فلائٹ کے ذریعے سفر کیا، جبکہ دوسری پرواز براہِ راست تہران سے دہلی پہنچی۔ تہران میں بھارتی سفارت خانے کے حکام نے طلبہ کی ہوائی اڈوں تک نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی اور پورے عمل کے دوران ان کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنایا۔
ایسوسی ایشن کے نیشنل کنوینر ناصر خوہامی نے کہا’’تمام طلبہ نے اپنے اخراجات پر سفر کیا اور ان دونوں پروازوں میں بڑی تعداد میں زائرین بھی سوار تھے۔ طلبہ بحفاظت بھارت پہنچ چکے ہیں اور بعد ازاں اپنے آبائی علاقوں کو روانہ ہو گئے ہیں۔ آج سے مزید کئی طلبہ کی آمد متوقع ہے، کیونکہ انہوں نے کمرشل پروازوں کی بکنگ کروا رکھی ہے‘‘۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تہران میں بھارتی سفارت خانے کے حکام نے جے کے ایس اے کو آگاہ کیا ہے کہ حکومتِ ہند کی باضابطہ انخلا کارروائیاں تاحال مؤخر ہیں۔انہوں نے کہا’’سفارت خانہ طلبہ سے براہِ راست رابطے میں ہے اور اگر انخلا ضروری ہوا تو انہیں سرکاری ذرائع سے ذاتی طور پر مطلع کیا جائے گا‘‘۔
خو ہامی نے کہا کہ جے کے ایس اے وزارتِ خارجہ (ایم ای اے) اور تہران میں بھارتی سفارت خانے کے ساتھ مسلسل رابطے اور تال میل میں ہے، جو ایرانی حکام کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں موجود تمام طلبہ محفوظ، مستحکم اور خیریت سے ہیں اور زمینی صورتحال بتدریج معمول پر آ رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ طلبہ کی آمد پر اہلِ خانہ نے وزارتِ خارجہ اور بھارتی سفارت خانے کے حکام سے اطمینان اور تشکر کا اظہار کیا۔
خو ہامی کے مطابق’’خاندانوں نے حکومتِ ہند اور ایم ای اے پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور مشکل وقت میں اپنے بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بروقت اقدامات پر شکریہ ادا کیا‘‘۔
ایسوسی ایشن نے طلبہ کی بحفاظت واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت سے جموں و کشمیر بھر کے پریشان خاندانوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ ساتھ ہی بتایا کہ ایران کے مختلف حصوں میں زیرِ تعلیم مزید کئی طلبہ آج سے کمرشل پروازوں کی بکنگ کے بعد وطن واپسی شروع کریں گے۔










