ہفتہ, جولائی 25, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

اعلانات سے عمل تک:

جموں کشمیر کے بجٹ میں کئے گئے وعدوں کا اکیا ہو ا؟

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-01-13
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

ہماری اپنی غلطیاں تباہی کو دعوت دے رہی ہیں

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

جموں و کشمیر میں بجٹ ہمیشہ محض مالی دستاویز نہیں رہا، بلکہ عوامی امیدوں، سیاسی دعوؤں اور انتظامی سنجیدگی کا پیمانہ بھی سمجھا جاتا ہے۔کسی بھی بجٹ کی کامیابی کا اصل معیار اس کے اعلانات نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے جموں و کشمیر میں۲۰۲۴۔۲۵ کے بجٹ کے ساتھ یہی بنیادی مسئلہ سامنے آیا ہے۔ جن منصوبوں کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ پیش کیا گیا تھا، وہ آج بھی ابتدائی کاغذی کارروائی سے آگے نہیں بڑھ پائے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ متعلقہ محکموں کے افسران اب تک ان منصوبوں کے نفاذ کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن بتانے سے قاصر ہیں۔ نتیجتاً عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آیا یہ اعلانات کبھی عملی شکل اختیار بھی کریں گے یا نہیں۔
ہاؤسنگ اور اربن ڈیولپمنٹ کے شعبے کو ہی لیجیے۔ جموں اور سری نگر کے رنگ روڈز کے ساتھ اسمارٹ انٹیگریٹڈ سیٹلائٹ ٹاؤن شپوں کی تعمیر، سانبہ میں دریائے بسنتَر کے لیے آلودگی کے خاتمے کا منصوبہ، کٹرا میں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کے اشتراک سے انٹر-موڈل اسٹیشن کی تعمیر، اور۷۸شہروں و قصبوں کے ماسٹر پلانز کی حتمی منظوری جیسے اعلانات کیے گئے تھے۔ ڈیڑھ برس سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود نہ سیٹلائٹ ٹاؤن شپوں کا کوئی وجود دکھائی دیتا ہے، نہ آلودگی کے خاتمے کے منصوبے کا آغاز ہوا، نہ انٹر-موڈل اسٹیشن کا۔ مزید برآں، ٹاؤن پلاننگ آرگنائزیشن کی جانب سے ماسٹر پلانز کی تیاری کا عمل بھی شروع نہیں ہو سکا، جبکہ کئی قصبوں کے ڈرافٹ ماسٹر پلانز برسوں پہلے نوٹیفائی ہونے کے باوجود آج تک حتمی شکل اختیار نہیں کر پائے۔
سیاحت اور ثقافت کا شعبہ، جسے جموں و کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، اس بجٹ میں خصوصی توجہ کا مرکز تھا۔ سانبہ میں دُگّر دانی گاؤں کو ایک روایتی “ماک ولیج” کے طور پر ترقی دینے اور آٹھ ثقافتی مراکز کے قیام جیسے اعلانات کیے گئے۔ مگر افسوس کہ یہ دونوں منصوبے بھی کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئے۔ ایسے وقت میں جب سیاحت کو فروغ دے کر روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے تھے، ان منصوبوں کی تاخیر ایک ضائع شدہ موقع کے مترادف ہے۔
کوآپریٹو سیکٹر میں ضلع، بلاک اور گاؤں کی سطح پر منی سپر بازاروں کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ مقامی پیداوار کو بازار مل سکے اور صارفین کو سہولت فراہم ہو۔ لیکن اس سمت میں بھی کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ صحت کے شعبے میں آل انڈیا انسٹچوٹ آف میڈیکل سائنسز اونتی پورہ کو مارچ۲۰۲۵ تک فعال بنانے کا اعلان کیا گیا تھا، جو عوام کے لیے ایک بڑی امید بن کر سامنے آیا تھا۔ اب اطلاعات ہیں کہ یہ اہم طبی ادارہ بھی ممکنہ طور پر موجودہ سال کے آخر تک ہی فعال ہو سکے گا، جو صحت کے شعبے میں انتظامی تاخیر کی ایک اور مثال ہے۔
توانائی کے شعبے میں اسمارٹ میٹرنگ اور اے ٹی اینڈسی نقصانات میں نمایاں کمی جیسے اعلانات کیے گئے تھے۔ مگر موجودہ موسمِ سرما میں بجلی کی طویل کٹوتیوں نے واضح کر دیا کہ اس محاذ پر بھی پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکام کی جانب سےاے ٹی اینڈسی نقصانات کو بجلی بحران کی وجہ قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اصلاحات کے دعوے عملی نتائج میں تبدیل نہیں ہو سکے۔
آبپاشی اور آبی فراہمی کے شعبے میں تَوی بیراج کے بقیہ کام کو۲۰۲۴۔۲۵میں مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل میں مزید کئی ماہ لگنے کا امکان ہے۔ اسی طرح صنعت و تجارت کے شعبے میں۴۶نئے صنعتی اسٹیٹس کی تیز رفتار ترقی کا وعدہ کیا گیا تھا تاکہ سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ تاہم ترقی کی رفتار مطلوبہ سطح سے کہیں کم ہے، جس سے روزگار کے بحران پر قابو پانے کی کوششیں کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہیں۔
یہ تمام مثالیں ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہیں:اعلانات اور عمل کے درمیان بڑھتا ہوا خلا۔ جب بجٹ کے وعدے پورے نہیں ہوتے تو اس کا سب سے بڑا نقصان عوامی اعتماد کو ہوتا ہے۔ لوگ یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ بجٹ محض اعداد و شمار کا کھیل ہے، جس کا ان کی روزمرہ زندگی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب بجٹ اعلانات کو محض وقتی سیاسی بیانات سمجھنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
آئندہ ماہ شروع ہونے والے بجٹ اجلاس کے دوران جموں و کشمیر کے لیے اگلے مالی سال کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اگرچہ پیشگی کوئی عندیہ دینے سے انکار کیا ہے، تاہم بجٹ کی تیاری اور مشاورت کا آغاز ہو چکا ہے۔ عوام کو اس نئے بجٹ سے خاصی توقعات وابستہ ہیں، خصوصاً بے روزگاری، ڈیلی ویج کارکنان کی مستقلی، اور بنیادی سہولیات کی بہتری جیسے مسائل کے حل کے حوالے سے۔ مگر ان توقعات کے ساتھ ایک گہری تشویش بھی جڑی ہوئی ہے:یا نئے وعدے بھی پچھلے وعدوں کی طرح محض کاغذوں تک محدود رہ جائیں گے؟
اس پس منظر میں ضروری ہے کہ آئندہ بجٹ صرف نئے اعلانات کا پلندہ نہ ہو بلکہ گزشتہ بجٹ کے نامکمل وعدوں کا واضح احتساب بھی پیش کرے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کن محکموں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، تاخیر کی وجوہات کیا رہیں، اور ان کے لیے کیا اصلاحی اقدامات تجویز کیے جا رہے ہیں۔ ایک جامع جائزہ، واضح ٹائم لائنز، ماہانہ یا سہ ماہی پیش رفت رپورٹس، اور ناقص کارکردگی پر جوابدہی کا نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
جموں و کشمیر اس وقت جن معاشی اور سماجی چیلنجز سے دوچار ہے، ان کا حل محض بجٹ میں بڑے بڑے اعداد و شمار شامل کرنے سے ممکن نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بجٹ کو زمینی حقیقتوں سے جوڑا جائے، اور اعلانات کو عملی اقدامات میں بدلا جائے۔ اگر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اس بار یہ یقین دہانی کرا سکیں کہ نیا بجٹ محض “اعداد و شمار کا پھیر بدل” نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنے گا، تو شاید عوام کا متزلزل اعتماد بحال ہو سکے۔
آخرکار، بجٹ کسی حکومت کی نیت اور صلاحیت دونوں کا عکاس ہوتا ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام اب نعروں اور وعدوں سے آگے بڑھ کر ٹھوس نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی اس وقت کا سب سے بڑا امتحان ہے  اور اسی پر آنے والے بجٹ کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہوگا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

جموںکشمیر کی ناکام سیاست!

Next Post

پونچھ میں جنگل کی آگ سے لائن آف کنٹرول کے قریب بارودی سرنگیں پھٹ گئیں

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

ہماری اپنی غلطیاں تباہی کو دعوت دے رہی ہیں

2026-07-23
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

2026-07-22
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

2026-07-19
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
Next Post
پونچھ میں جنگل کی آگ سے لائن آف کنٹرول کے قریب بارودی سرنگیں پھٹ گئیں

پونچھ میں جنگل کی آگ سے لائن آف کنٹرول کے قریب بارودی سرنگیں پھٹ گئیں

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.