موسمِ سرما کے دوران ایل او سی اور آئی بی پر دراندازی کو روکنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے آگاہی دی جائےگی
سرینگر: مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ جمعرات کو نئی دہلی میں جموں و کشمیر سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی سکیورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔
اس اجلاس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، جموں و کشمیر پولیس، سول انتظامیہ، سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز‘انٹیلی جنس ایجنسیوں اور وزارتِ داخلہ کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔
یہ اجلاس ۲۰۲۶میں جموں و کشمیر کے حوالے سے پہلا اعلیٰ سطحی سکیورٹی جائزہ اجلاس ہوگا۔
یہ میٹنگ جموں خطے کے پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں دہشت گردوں، بشمول غیر ملکی دہشت گردوں، کی تلاش اور خاتمے کے لیے جموں و کشمیر پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے شروع کی گئی جارحانہ کارروائیوں کے تناظر میں منعقد کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق، اجلاس کے دوران دیگر سکیورٹی امور کے ساتھ ساتھ اس مربوط حکمتِ عملی پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا، جس کا مقصد دشوار گزار اور ناقابلِ رسائی علاقوں میں چھپے دہشت گردوں کا خاتمہ اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد (آئی بی) پر دراندازی کو مکمل طور پر روکنا ہے۔
اجلاس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے علاوہ چیف سیکریٹری اٹل دولو، ہوم سیکریٹری چندرکیر بھارتی، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) نالِن پربھات اور انٹیلی جنس چیف نتیش کمار سمیت پولیس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی شرکت کریں گے۔
مرکزی ہوم سیکریٹری گووند موہن کے علاوہ تمام سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان بھی اس جائزہ اجلاس میں موجود ہوں گے۔
امکان ہے کہ سینئر افسران وزیر داخلہ کو موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر بریف کریں گے، جن میں موسمِ سرما کے دوران ایل او سی اور آئی بی پر دراندازی کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں چھپے دہشت گردوں کے خاتمے سے متعلق کارروائیاں شامل ہیں۔
گزشتہ چند مہینوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے کشتواڑ، ڈوڈہ، ادھم پور اور خطے کے دیگر اضلاع کے بالائی علاقوں میں متعدد جھڑپوں کے دوران دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ اس عرصے میں ایل او سی اور آئی بی پر دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔
انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، دہشت گرد پاکستان فوج اور آئی ایس آئی کی مدد سے ایل او سی اور آئی بی کے دونوں اطراف دراندازی کے مواقع کے انتظار میں ہیں۔
اس دوران جموں وکشمیر کے ضلع کٹھوعہ کے جنگلی علاقے کماد نالہ میں بدھ کی شام سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید گولی باری کا تبادلہ ہوا جس سے پورے علاقے میں سنسنی اور خوف کا ماحول پیدا ہوگیا۔
حکام کے مطابق اسپیشل آپریشنز گروپ کٹھوعہ نے دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر علاقے میں تلاشی آپریشن شروع کیا تھا، جس کے دوران دہشت گردوں نے فورسز پر فائرنگ کر دی۔
اطلاعات کے مطابق فورسز نے پورے جنگلی خطے کو گھیرے میں لے کر کماد نالہ کے اطراف وسیع علاقے کو سیل کیا ہے تاکہ دہشت گردوں کے ممکنہ فرار کے تمام راستے بند کیے جا سکیں۔ علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور تمام داخلی اور خارجی راستوں پر سخت پہرہ بٹھا دیا گیا ہے ۔
آئی جی جموں، بھیم سین توتی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کماد نالہ کے گھنے جنگلات میں سیکورٹی فورسزاور دہشت گردوں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے ۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ دہشت گردوں کو کسی بھی صورت فرار ہونے کا موقع نہ دیا جائے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ زمینی فورسز کے علاوہ فضائی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے تاکہ جنگل کے ہر کونہ و کنارے پر نظر رکھی جا سکے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پورے آپریشن کو انتہائی احتیاط اور منظم حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔
آخری اطلاعات آنے تک گولیوں کا تبادلہ جاری تھا اور مزید کمک علاقے کی طرف روانہ کی گئی ہے ۔










