سرینگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مرکزِ انتظامیہ کے عوامی مسائل پر ’’خاموشی‘‘ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے یہ بات اپنے والد اور پی ڈی پی کے بانی مفتی محمد سعید کی دسویں برسی کے موقع پر ایک مختصر خطاب کے دوران کہی۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ان کی پارٹی کے خلاف جنون کی حد تک مشغول ہیں اور صرف پی ڈی پی کو تنقید کا نشانہ بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔
محبوبہ نے کہا’’آج اگر کوئی نوجوان اپنی آواز بلند کرتا ہے تو اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ ہزاروں لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ میں عدالت گئی، مگر وہاں مجھ سے کہا گیا کہ تم کون ہوتی ہو ان کے بارے میں بات کرنے والی؟ اگر ہم بات نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا؟ وہ غریب ہیں، وہاں جانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ وہ کہاں جائیں؟ یہ میرا نہیں بلکہ عمر عبداللہ کا کام تھا، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ عمر اپنے۵۰؍ ایم ایل ایز اور متعدد ایم پیز کے ساتھ کس دنیا میں رہتے ہیں کہ وہ ان مسائل پر بات نہیں کرتے۔ وہ صرف پی ڈی پی پر تنقید کرتے ہیں، وہ پی ڈی پی کے ساتھ جنونی حد تک مشغول ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں ریلوے لائن بچھانے کے لیے باغات کی زمین حاصل کیے جانے کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ غریب خاندانوں کے لیے باغات کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ جن خاندانوں کی زمینیں لی جا رہی ہیں، ان کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے۔
اپنے والد کی سیاسی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ پی ڈی پی کو محفوظ رکھیں۔انہوں نے کہا’’یہ پارٹی مفتی صاحب کی وراثت ہے۔ میں اکیلی کیا کر سکتی ہوں؟ اسے زندہ رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ جب بھی موقع ملے، ان کے لیے دعا ضرور کریں۔‘‘
اس موقع پر پی ڈی پی صدر جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ریاست میں کوئی اور سیاستدان ایسا نہیں جس میں مفتی محمد سعید جیسی ’’دور اندیشی‘‘ ہو۔ان کاکہنا تھا’’یہاں لوگ اکثر اقتدار کا انتخاب کرتے ہیں، مگر میرے والد نے ہمیشہ اقتدار پر عوام کو ترجیح دی۔‘‘
پی ڈی پی کی صدر نے کہا کہ مفتی محمد سعید نے ایک ایسے کشمیر کا تصور کیا تھا جہاں لوگ باوقار زندگی گزار سکیں اور بلا خوف اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔’’وہ مکالمے اور رابطے پر یقین رکھتے تھے—چاہے وہ کشمیر کے اندر ہو یا سرحد پار۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا،’’میں نے اپنی جوانی اور اپنی زندگی ان کے راستے پر لگا دی، کیونکہ میں جانتی تھی کہ میرے والد میں جو دور اندیشی تھی، وہ کسی اور لیڈر میں نہیں تھی۔ اگر ہوتی، تو آج ہم اس طوفان میں نہ ہوتے‘‘۔انہوں نے کہا کہ جہاں دوسرے لوگ اقتدار کی کرسی کے پیچھے بھاگتے رہے، وہیں ان کے والد نے عوام کو ترجیح دی۔
محبوبہ مفتی نے مزید کہا’’جب میں سیاست میں آئی تو میں صرف عوام کے لیے ہر کونے تک پہنچی۔ لوگوں نے یہ بات نہیں سمجھی کہ وہ کرسی کے طالب نہیں تھے، بلکہ قوم اور عوام کے لیے نکلے تھے۔‘‘










