بروسیلز، 6 جنوری (یو این آئی) گرین لینڈ کے وزیرِاعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے سے متعلق بیانات پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بس اب بہت ہوچکا۔
خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ الحاق سے متعلق مزید کوئی خیالی بات قابلِ قبول نہیں، اب ہم مزید دبا¶ برداشت نہیں کریں گے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن مذاکرات مناسب چینل کے ذریعے اور احترام کے ساتھ ہونے چاہئیں۔
یورپ میں ڈنمارک کے اتحادی ممالک نے بھی واضح کیا ہے کہ اس جزیرے کا مستقبل صرف اور صرف اس کے عوام طے کریں گے ۔
وزیراعظم جنزفیرڈرک نیلسن نے کہا کہ گرین لینڈ کا وینزوئیلا سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا، ہم ایک جمہوری معاشرہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امید ہے امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر ہوجائیں گے ، ابھی اس مقام پر نہیں پہنچے کہ جو سوچیں کہ ہمارے ملک پر راتوں رات قبضہ ہوسکتا ہے ۔
وزیراعظم گرین لینڈ کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن کے ساتھ براہ راست رابطہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں، امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات بحال کرنا چاہتے ہیں۔
یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کی برطرفی کے بعد ایک بار پھر اپنے بیان میں گرین لینڈ کو امریکہ کے لیے ضروری قرار دیا ہے ۔
اس سے قبل گزشتہ روز ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے سے متعلق بیانات اور دھمکیاں دینا بند کریں۔
اپنے بیان میں میٹے فریڈرکسن نے کہا تھا کہ گرین لینڈ پر امریکا کے قبضے کی بات بالکل بے معنی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت کو ڈینش سلطنت کے تین ممالک میں سے کسی ایک کو بھی اپنے ساتھ ضم کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔










