سرینگر: حکام نے جمعرات کو بتایا کہ وادیٔ کشمیر میں مقبول سیاحتی مقامات اور بالائی علاقوں میں تازہ برفباری کے دوران نئے سال کا استقبال کیا گیا، جبکہ محکمۂ موسمیات نے دن کے بعد کے حصے میں موسم میں بہتری کی پیش گوئی کی ہے۔
حکام نے کہا کہ گلمرگ، پہلگام اور سو نہ مرگ سمیت سیاحتی مقامات پر رات بھر تازہ برفباری ہوئی جو جمعرات کی صبح تک جاری رہی، جس کے باعث بڑی تعداد میں سیاح وہاں پہنچے۔
حکام کے مطابق بالائی علاقوں میں بھی تازہ برفباری ریکارڈ کی گئی، جن میں گریز کی تلیل وادی، بانڈی پورہ میں رازدان ٹاپ، کپواڑہ میں مژھل اور سادھنا ٹاپ، اور زوجیلا پاس شامل ہیں۔
حکام نے کہا کہ مغربی خلل (ویسٹرن ڈسٹربنس) کے آخری حصے کے شام تک آگے بڑھنے کے باعث بعض علاقوں میں ہلکی بارش یا برفباری کے امکانات ہیں، جس کے بعد موسم میں بتدریج بہتری آئے گی۔تاہم جمعہ کے روز کچھ مقامات پر ہلکی بارش یا برفباری کا مختصر دورانیہ ہو سکتا ہے۔
حکام کے مطابق بادلوں کی موجودگی کے باعث رات کے درجۂ حرارت موسمی اوسط سے زیادہ رہے اور زیادہ تر مقامات پر نقطۂ انجماد سے اوپر درج کیے گئے۔
تازہ برفباری کے باوجود وادی میں غیر معمولی طور پر گرم سردیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں درجۂ حرارت موسمی اوسط سے 1.2 سے 6.3 ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، حکام نے کہا۔
بدھ کی رات سرینگر میں کم از کم درجۂ حرارت 2.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو اس وقت کے معمول سے 4.6 ڈگری سیلسیس زیادہ تھا۔
حکام کے مطابق گلمرگ خطے کا سرد ترین مقام رہا، جہاں پارہ منفی 5.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا، جو گزشتہ رات کے مقابلے میں 2.5 ڈگری کم تھا۔
جنوبی کشمیر میں پہلگام میں کم از کم درجۂ حرارت منفی 0.4 ڈگری گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 6.3 ڈگری زیادہ تھا، جبکہ وادی کے دروازے کے طور پر جانے جانے والے قصبے قاضی گنڈ میں درجۂ حرارت۲ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو معمول سے پانچ ڈگری زیادہ ہے۔
یہ خطہ اس وقت ’چلۂ کلاں‘ کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جو شدید سردی کا۴۰ روزہ دورانیہ ہوتا ہے۔ اس عرصے کے دوران عام طور پر رات کا درجۂ حرارت کئی ڈگری نقطۂ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے، تاہم موجودہ اعداد و شمار معمول کے برعکس رجحان ظاہر کر رہے ہیں۔
شدید موسم کے اس دور میں برفباری کے امکانات سب سے زیادہ اور بار بار ہوتے ہیں، لیکن اس موسم میں اب تک وادی کے میدانی علاقوں میں کوئی برفباری نہیں ہوئی ہے۔
دریں اثنا جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو صوبہ جموں کے پونچھ اور راجوری اضلاع کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی مغل روڈ اور وادی کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سرینگر، لیہہ شاہراہ پر تازہ برف باری کے پیش نظر ٹریفک کی نقل و حمل بند کر دی گئی ہے ۔
تاہم وادی کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سرینگرٹ جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کی دو طرفہ نقل و حمل حسب معمول جاری ہے ۔
ٹریفک حکام نے بتایا کہ مغل روڈ، سری نگر – لیہہ شاہراہ اور سنتھن روڈ کو تازہ برف باری کے باعث ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تاہم وادی کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سرینگر ، جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کی دو طرفہ نقل و حمل حسب معمول جاری ہے ۔
حکام نے لوگوں سے مکمل طور پر بحال ہونے تک ان سڑکوں پر سفر کرنے سے پرہیز کرنے کی ہدایت دی ہے ۔
لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں بلکہ ان سڑکوں کی حالت جاننے کے لئے ٹریفک پولیس کے ٹویٹر ہینڈل ،فیس بک پیج اور ٹریفک کنٹرول یونٹ،جموں، ٹریفک کنٹرول یونٹ سری نگر اور ٹریفک کنٹرول یونٹ رام بن کی طرف رجوع کریں۔










