سرینگر/۲۶ دسمبر
وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے) نے اتراکھنڈ میں ایک کشمیری موسمی شال فروش پر حملے کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ کشمیری شال فروشوں کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کی جائیں گی۔
ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزارتِ داخلہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ’’ایم ایچ اے نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ کشمیری شال فروشوں کے خلاف ایسے اقدامات کسی بھی صورت میں برداشت نہیں ہوں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری تاجر ہندوستان کے برابر کے شہری ہیں اور آئین کے تحت انہیں ملک کے کسی بھی حصے میں کام کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
حکام کے مطابق، پیر کی دوپہر ۲۲دسمبر ۲۰۲۵ کو بلال احمد گنائی (۲۸)، جو ضلع کپواڑہ کشمیر کے رہنے والے ہیں، کو ضلع اْدھم سنگھ نگر کے کاشی پور علاقے میں اْس وقت روکا گیا جب وہ شدید سردیوں کے دوران اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے گھر گھر شالیں فروخت کر رہے تھے۔
بلال گزشتہ آٹھ برسوں سے اتراکھنڈ میں موسمی شال فروش کے طور پر کام کر رہے ہیں اور آٹھ سردیوں سے زائد عرصے سے وہاں تجارت کر رہے ہیں۔ مقامی طور پر وہ ایک پرامن اور غیر متنازع تاجر کے طور پر جانے جاتے تھے۔
پولیس کے مطابق، مرکزی ملزم انکور سنگھ، جو بجرنگ دل کا مقامی رہنما ہے، نے مبینہ طور پر پانچ افراد کے ایک گروپ کی قیادت کرتے ہوئے بلال کو گھیر لیا اور ان پر حملہ کیا۔ حملے کے دوران بلال کو جسمانی تشدد، زبانی گالی گلوچ، جان سے مارنے کی دھمکیاں اور خوف و ہراس کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کے مطابق، حملے کے دوران متاثرہ شخص کو زبردستی ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔
ابتدائی طور پر اس معاملے میں غیر رسمی تصفیے کی کوشش کی گئی اور گوشالا پولیس چوکی میں ’’معافی نامہ‘‘ کے ذریعے سمجھوتہ کرانے کا دباؤ ڈالا گیا، جس کی وجہ سے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر ہوئی۔ تاہم، حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی غصہ اور شدید مذمت سامنے آئی، جس کے نتیجے میں معاملہ نئی دہلی تک پہنچا۔ اس کے بعد وزارتِ داخلہ نے اتراکھنڈ انتظامیہ کو سختی سے قانون کی عملداری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی، ایک عہدیدار نے بتایا۔
وزارتِ داخلہ کی اس مداخلت نے فیصلہ کن کردار ادا کیا، جس کے بعد اتراکھنڈ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) دیپم سیٹھ اور گورنر نے اس معاملے کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ملزمان اور متعلقہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی۔
وزارتِ داخلہ کی ہدایات اور عوامی مذمت کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تیز رفتار اور مربوط کارروائی کرتے ہوئے اب تک تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ تحقیقات کے دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ مزید چھاپوں اور گرفتاریوں کا امکان ہے۔
حکام نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایف آئی آر نمبر۵۱۷/۲۰۲۵بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات۱۹۱(۲)‘۱۱۵(۲)‘۳۵۱(۳)‘۳۵۲‘۳۰۴‘۶۲‘۲۹۲؍اور۱۲۶(۱)کے تحت درج کی گئی ہے۔ ان دفعات میں مجرمانہ دھمکی، مارپیٹ، حملہ، جان کو خطرہ، جبر اور قابلِ اعتراض و توہین آمیز افعال سے متعلق الزامات شامل ہیں، جو جرم کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
حکام نے کہا کہ کسی بھی دباؤ یا سمجھوتے کی کوشش کو استغاثہ کی کارروائی میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا اور تحقیقات مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھیں گی تاکہ واقعات کی مکمل کڑی، مزید ملزمان اور قانونی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ اس کیس کی تحقیقات مشن موڈ میں کی جا رہی ہے اور انصاف کی شفاف اور فوری فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے کہا ہے کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور اتراکھنڈ کے کاشی پور میں کشمیری شال فروش کو تشدد کا نشانہ بنانے والے تمام باجرنگ دل رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے اس معاملے میں اتراکھنڈ پولیس کی جانب سے بروقت کارروائی کا خیر مقدم کیا۔
ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر خوہامی نے کہا کہ معاملہ اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھائے جانے کے بعد اتراکھنڈ کے ڈی جی پی نے انہیں اطلاع دی کہ اس واقعے کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔
ناصر خوہامی نے مزید کہا کہ آئی جی پی کماؤں رینج ردھم اگروال نے ایسوسی ایشن کو بتایا کہ اتراکھنڈ پولیس نے حملے اور متاثرہ شخص کو دی گئی جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ ضلع اْدھم سنگھ نگر کے ایس ایس پی مانیکانت مشرا نے اطلاع دی کہ مرکزی ملزم کی شناخت بجرنگ دل کے رہنما انکور سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ دیگر باجرنگ دل کارکنان بھی اس واقعے میں ملوث پائے گئے ہیں۔
ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ وزارتِ داخلہ اور اتراکھنڈ ریاستی حکومت دونوں نے اس واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے اور یہ واضح پیغام دیا ہے کہ کشمیری تاجروں کے خلاف ہراسانی اور تشدد کی کسی بھی کارروائی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایسوسی ایشن نے تمام ملوث افراد کے خلاف سخت اور مثالی کارروائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ اس سے متاثرہ شخص کو انصاف ملے گا اور یہ واضح پیغام جائے گا کہ تشدد، نفرت اور دھمکیوں کی جمہوری معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
ایسوسی ایشن نے مزید کہا، ’’ملک بھر میں کشمیری تاجروں اور طلبہ کی سلامتی، وقار اور روزگار کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور قانون کی حکمرانی کو ہر حال میں قائم رہنا چاہیے۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)‘‘










