سرینگر/۲۶ دسمبر
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز سرکاری ملازمتوں اور پیشہ ورانہ کالجوں میں ریزرویشن کے معاملے پر نیشنل کانفرنس (این سی) کے سینئر رہنما اور رکنِ پارلیمان آغا سید روحْ اللہ مہدی کو سخت جواب دیا۔
ریزرویشن سے متعلق روحْ اللہ مہدی کے بیانات پر اب تک کے اپنے سخت ترین ردِعمل میں عمر عبداللہ نے کہا’’میں کسی کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا، نہ ہی دباؤ میں آ کر کوئی غلط فیصلہ کروں گا۔ مجھے نہیں معلوم آپ خود کو کیا سمجھتے ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریزرویشن پالیسی جیسے معاملات کو دھمکیوں یا سڑکوں پر دباؤ ڈال کر حل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان پر آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں سے مناسب مشاورت کے بعد ہی فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
عمر عبداللہ کا یہ سخت ردِعمل اس کے بعد سامنے آیا جب روحْ اللہ مہدی نے حال ہی میں حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر ۲۷ دسمبر تک احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت نہیں کی گئی تو وہ خود ان کی تحریک میں شامل ہو جائیں گے۔
رکنِ پارلیمان روحْ اللہ مہدی مسلسل نیشنل کانفرنس کی اعلیٰ قیادت کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ ۲۰۲۴ کے انتخابی منشور میں عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے، جس منشور کی بنیاد پر پارٹی اقتدار میں آئی۔
جمعہ کو پیش آنے والی ان پیش رفتوں کے بعد عمر عبداللہ، جو نیشنل کانفرنس کے نائب صدر بھی ہیں، اور روحْ اللہ مہدی کے درمیان تعلقات ایک کھلے ٹکراؤ کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔
جموں و کشمیر میں اوپن میرٹ امیدواروں کے لیے ریزرویشن کو ۴۰ فیصد تک بڑھانے کے مقصد سے، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں ریاستی کابینہ نے ریزیڈنٹ آف بیک ورڈ ایریا (آر بی اے) کے تحت ریزرویشن میں ۳ فیصد اور معاشی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس) کے کوٹے میں۷ فیصد کمی کی سفارش کی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی منظوری کے بعد، سرکاری ملازمتوں اور پیشہ ورانہ کالجوں میں مختلف زمروں کے لیے مجموعی ریزرویشن ۶۰ فیصد ہو جائے گا، جبکہ باقی۴۰ فیصد نشستیں اوپن میرٹ امیدواروں کے لیے دستیاب ہوں گی۔
فی الوقت درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کیلئے ۸/۸ فیصد، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے ۲۰ فیصد، ای ڈبلیو ایس اور آر بی اے کیلئے ۱۰/۱۰ فیصد اور حقیقی لائن آف کنٹرول/بین الاقوامی سرحد سے متصل علاقوں (اے ایل سی/آئی بی) کے رہائشیوں کے لیے ۴ فیصد ریزرویشن ہے۔ اس کے علاوہ ۱۰فیصد افقی ریزرویشن بھی ہے، جس میں۶فیصد سابق فوجیوں اور۴ فیصد معذور افراد (پی ڈبلیو ڈیز) کیلئے مختص ہے۔
دریں اثنا نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور رکن اسمبلی تنویر صادق کا کہنا ہے کہ کابینہ نے ریزرویشن کے معاملے پر فیصلہ کیا ہے اور اس فائل کو منظوری کے لئے راج بھون بھیج دیا گیا۔
صادق نے تمام متعلقین سے اپیل کی کہ وہ راج بھون کو یہ فائل جلد سے جلد منظور کرنے کی اپیل کریں۔
حکمران جماعت کے ترجمان اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کو یہاں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔
ریزرویشن کے متعلق پوچھے جانے پر انہوں نے کہا’’شاید ہمارے نوجوانوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ کابینہ نے۲۵دن قبل ریزرویشن کے معاملے پر فیصلہ کیا ہے اور اس فائل کو منظوری کیلئے راج بھون بھیج دیا گیا ہے ، ہم نے منشور میں بھی کہا تھا کہ ہم ریزرویشن کو ریشنالائز کریں گے ‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’فائل اس وقت راج بھون میں ہے میں تمام متعلقین سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ راج بھون سے اس فائل کو جلد سے جلد منظور کرنے کی اپیل کریں تاکہ وہ اس کو حکومت کو واپس بھی سکیں اور ہم اس پر عملدر آمد کرسکیں‘‘۔
رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ کے ایک حالیہ بیان کے تنویر صادق نے کہا’’آغا صاحب ہمارے لیڈر ہیں، میں میڈیا کی وساطت سے کہنا چاہتا ہوں کہ ریزرویشن فائل اس وقت راج بھون میں ہے ، لوگ راج بھون سے اس کی منظوری اور اس کو واپس حکومت بھیجنے کیلئے راج بھون سے اپیل کریں‘‘۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا’’بی جے پی نے یہ ایک ٹرنڈ بنایا ہے کہ وہ ہر چیز کو مذہب سے جوڑتے ہیں، انہیں یہ عمل ختم کرنا چائیے ۔
(ندائے مشرق خبر)‘‘










