ایک بات تو صاحب طے ہے کہ یہ سیاست بڑی مزیدار چیز ہے…ٹیسٹی بھی۔ اس کام ‘ اس پیشے ‘ اس تجارت میں سہولت ہے… اور آزادیاں بھی۔ ایسی سہولت‘ایسی آزادیاں جو کسی اور کام ‘ کسی اور پیشے ‘ کسی اور تجارت میں نہیں ہیں اور… اور بالکل بھی ہیں۔آپ جب چاہیں جہاں چاہیں آ جا سکتے ہیں … سرکاری ملازمین اور پیشہ ور افراد کی طرح صبح سویرے اٹھ کر ہاتھ پیر مارنے کی کوئی ضرورت نہیں اور… اور بالکل بھی نہیں ہے ۔ آپ چھٹی پر جانا چاہتے ہیں … غیر معینہ مدت کی چھٹی پر ‘ کوئی آپ کو روکنے اور ٹوکنے والا نہیں ہے… کہ … کہ آپ کا چھٹی پر جانے سے آپ کے گھر کا چولہہ ٹھنڈا نہیں ہو گا… اس بات کی ضمانت ہے… یہ ضمانت کوئی اور نہیں بلکہ سیاست خود دیتی ہے ۔اوریقین کیجئے ہم جو کہہ رہے ہیں‘ کسی مفروضے کی بنیاد پر نہیں کہہ رہے ہیں… بالکل بھی نہیں کہہ رہے ہیں …مثالیں بہت ہیں … راہل بابا کی بھی ہیں جو ان دنوں جرمنی میں ہیں… لیکن اگر ہم ان کی ہی بات کریں گے تو … تو کہنے والے کہیں گے کہ … کہ ہمیں صرف راہل بابا ہی نظر آتے ہیں… یا ہماری نظریں صرف راہل بابا پر ہی ٹکی ہو ئی ہیں کہ… کہ اور بھی تو کئی سیاستدان ہیں جو بیرون ملک آتے جاتے ہیں… اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیرا علیٰ‘عمرعبداللہ نے تو ان سیاستدانوں میں اپنے وزیر اعظم مودی جی کا نام بھی جوڑ دیا جب ان سے راہل بابا کی جرمن یاترا کے بارے میں پوچھا گیا تھا… لیکن صاحب ہم میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ… کہ ہم مودی جی کا نام اس میں جوڑ دیں کہ… کہ یہ جناب ملک چلا رہے ہیں… ملک چلانے کوئی معمولی بات نہیں ہے… ملک چلانے کیلئے انہیں اگر ادھر اُدھر جانا پڑے بھی تو … تو اس میں برا ہی کیا ہے کہ… کہ ہر کوئی لیڈر یہی کرتا ہے… ہمارا مطلب ہے کہ حاکم یہی کرتا ہے…اور حاکم سیاستدان ہو تا ہے اور… اور ہم تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں ‘ یہ مان کے چلے ہیں کہ… کہ یہ سہولت سیاستدانوں کو ہی میسر ہے‘ کسی اور کو نہیں … بالکل بھی نہیں …کہ سیاست میں اتنی گنجائش موجود رہتی ہے… ہر ایک سیاستدان کیلئے۔ ہے نا؟




