سرینگر/۲۲ دسمبر
کشمیر یونیورسٹی نے کشمیری ڈیپارٹمنٹ کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو سرینگر کے علاقے حضرت بل میں واقع پولیس اسٹیشن نگین میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں معطل کر دیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق ڈاکٹر الطاف احمد گنائی، جو اپنے قلمی نام شفقت الطاف سے بھی جانے جاتے ہیں، کو تحقیقات مکمل ہونے تک فوری طور پر معطل کیا گیا ہے۔ یہ معطلی یونیورسٹی اسٹیچیوٹ۲۶ء۳(۲)کے ساتھ ضابطہ ۱۲(۳) (IV) کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ معطلی کی مدت کے دوران متعلقہ فیکلٹی ممبر کو دفترِ ڈین ریسرچ کے ساتھ منسلک رکھا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ۹ دسمبر ۲۰۲۵ کو پولیس اسٹیشن نگین کو کشمیر یونیورسٹی کی ایک خاتون ایسوسی ایٹ پروفیسر (نام ظاہر نہیں کیا گیا) کی جانب سے الیکٹرانک ذریعے سے ایک درخواست موصول ہوئی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ ڈاکٹر شفقت الطاف، اسسٹنٹ پروفیسر، محکمہ کشمیری، اور فاروق احمد ملک، اسسٹنٹ پروفیسر، محکمہ اعلیٰ تعلیم، گورنمنٹ ڈگری کالج اننت ناگ، نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے خلاف جھوٹا، ہتک آمیز اور فحش مواد گردش میں ڈالا۔
ذرائع نے بتایا کہ شکایت کنندہ کے مطابق یہ مواد جان بوجھ کر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ان کی عصمت مجروح کرنے کی نیت سے شیئر کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ خود کو خوف زدہ اور ہراساں محسوس کرنے لگیں۔
شکایت کی بنیاد پر پولیس اسٹیشن نگین میں ایف آئی آر نمبر 108/2025 درج کی گئی، جس میں بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 79 (عورت کی عصمت کی توہین)، 351(2) (مجرمانہ دھمکی‘شدید نوعیت)، اور 356(2) (الیکٹرانک یا دیگر ذرائع سے ہتک عزت)، کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 67 (الیکٹرانک شکل میں فحش مواد شائع یا ترسیل) شامل ہیں۔
ایک پولیس افسر نے بتایا کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور قانون کے مطابق مزید کارروائی بروقت عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کیس کو منطقی اور حتمی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
دریں اثنا، یونیورسٹی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر نیلوفر خان نے یونیورسٹی کیمپس میں بدعنوانی اور بدنیتی پر مبنی مہمات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہے اور تمام ملازمین کو ادارے کے قواعد و ضوابط کے منافی کسی بھی طرزِ عمل سے باز رہنے کی ہدایت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر نے یونیورسٹی کی ساکھ اور وقار کو نقصان پہنچانے والی تمام سرگرمیوں کے خلاف قانونی اور فوری کارروائی کی ہدایت دی ہے۔
موجودہ معاملے میں، عہدیدار کے مطابق، وائس چانسلر نے ذاتی طور پر اس بات کو یقینی بنایا کہ خواتین ملازمین کی عزت و وقار یونیورسٹی کی اولین ترجیح رہے اور قصورواروں کو بلا تاخیر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کو کیمپس سے مکمل طور پر ختم کیا جائے گا، اور وائس چانسلر کی مسلسل کوششیں یونیورسٹی کو بالخصوص خواتین ملازمین کے لیے ایک محفوظ اور باوقار ادارہ بنانے پر مرکوز ہیں۔










