واشنگٹن، 20 دسمبر(یو این آئی) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں 10 لاکھ ڈالر والا ‘گولڈ کارڈ’ دکھا دیا۔
امریکی گرین کارڈ کے حصول کے لیے اب غیر ملکیوں کو 10 لاکھ ڈالر دینے پڑیں گے ، صدر ٹرمپ نے گولڈ کارڈ دنیا کو دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام اُن غیر ملکی شہریوں کے لیے ہے جو ایک بھاری قیمت ادا کر کے امریکہ میں رہائش حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی شہریوں کے لیے ایک نئے سرمایہ کاری ویزا ”ٹرمپ گولڈ کارڈ” کے تحت درخواستوں کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے ۔
پروگرام کی ویب سائٹ کے مطابق، ایک ملین ڈالر اور 15 ہزار ڈالر پروسیسنگ فیس کے عوض گولڈ کارڈ کے درخواست گزاروں کو امریکہ میں ”ریکارڈ وقت” میں کُل وقتی رہائش دی جائے گی۔
دوسری طرف امیگریشن کے وکلا نے تنقید کی ہے کہ انتہائی ماہر یا نمایاں صلاحیتوں کے حامل افراد کی جگہ ایسے غیر ملکی شہریوں کو ترجیح دینا، جن کی واحد اہلیت ایک ملین ڈالر کا چیک لکھنا ہو، موجودہ ویزا پروگراموں کے اصل مقصد کو مسخ کر دیتا ہے ۔
ویب سائٹ پر ایک ”کارپوریٹ گولڈ کارڈ” کی سہولت بھی پیش کی گئی ہے ، جس کے تحت کمپنیاں 2 ملین ڈالر ادا کر کے اپنے کسی ملازم کے لیے گولڈ کارڈ حاصل کرسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ”پلاٹینم کارڈ” بھی متعارف کرانے کی بات کی گئی ہے ، جس میں خصوصی ٹیکس فوائد شامل ہوں گے اور ممکن ہے کہ مستقبل میں یہ 50 لاکھ ڈالر کے عوض پیش کیا جائے ۔
سی این بی سی کے مطابق امریکہ میں چوں کہ امیگریشن پالیسی طے کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے ، اس لیے صدر کو کسی ویزا پروگرام کو قائم یا ختم کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے ‘گولڈ کارڈ’ متعارف کرانے کے لیے ٹرمپ دراصل موجودہ دو پروگراموں (جنہیں ای بی-1 اور ای بی-2 کہا جاتا ہے ) میں ایک نیا فِیس ماڈل شامل کر رہے ہیں۔









