اوپن اے آئی، گوگل اور پرپلیکسیٹی نے بھارت میں اپنی پریمیم مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹولز تک مفت رسائی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل منڈیوں میں سے ایک میں مسابقت مزید تیز ہو گئی ہے۔
اس اقدام کا مقصد بھارت میں تیزی سے صارفین کی تعداد بڑھانا ہے، جہاں سستے ڈیٹا پیکجز اور اسمارٹ فون استعمال کرنے والی بڑی آبادی اے آئی پر مبنی خدمات کی مانگ میں زبردست اضافہ کر رہی ہے۔
بھارت تقریباً ۷۳ کروڑ اسمارٹ فون صارفین اور دنیا میں موبائل ڈیٹا کی کم ترین قیمتوں کی وجہ سے اے آئی کمپنیوں کیلئے ایک اہم میدانِ مقابلہ بن چکا ہے۔
ملک میں صارفین ہر ماہ اوسطاً تقریباً۲۱ گیگا بائٹ ڈیٹا استعمال کرتے ہیں اور فی گیگا بائٹ صرف ۲ء۹ سینٹ ادا کرتے ہیں، جس کے باعث دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں اے آئی ٹولز کا زیادہ استعمال کہیں زیادہ سستا پڑتا ہے۔
اوپن اے آئی نے بھی اسی حکمتِ عملی پر عمل کرتے ہوئے بھارت میں اپنے چیٹ جی پی ٹی گو پلان کو ایک سال کیلئے مفت کر دیا ہے۔ یہ پلان، جو چیٹ جی پی ٹی کے معیاری ورڑنز کے مقابلے میں زیادہ استعمال کی اجازت دیتا ہے، عام طور پر۱۰۰ سے زائد ممالک میں ادا شدہ سروس ہے اور اس کی بھارت میں پہلے قیمت ۵۴ ڈالر تھی۔ نومبر میں ملک بھر میں شروع کی گئی یہ مفت سہولت صرف بھارتی صارفین کیلئے دستیاب ہے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مارکیٹ انٹیلی جنس فرم سینسر ٹاور کے اعداد و شمار کے مطابق، بھارت میں چیٹ جی پی ٹی کے یومیہ فعال صارفین کی تعداد گزشتہ ہفتے تک سال بہ سال بنیاد پر ۶۰۷ فیصد اضافے کے ساتھ۷ کروڑ ۳۰ لاکھ تک پہنچ گئی۔
یہ تعداد امریکہ میں یومیہ صارفین کی تعداد سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ یوں بھارت دونوں چیٹ بوٹس کیلئے یومیہ صارفین کے لحاظ سے سب سے بڑی منڈی بن گیا ہے۔
پرپلیکسیٹی نے بھی بھارت میں اپنی موجودگی مضبوط کرتے ہوئے اپنے پرو پلان کو، جس کی عالمی سطح پر سالانہ قیمت ۲۰۰ ڈالر ہے، ایئرٹیل کے صارفین کے لیے ایک سال کے لیے مفت فراہم کیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ پلان صارفین کو اس کے جدید ترین تحقیقی ٹولز تک لامحدود رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس پیشکش کے بعد بھارت اب پرپلیکسیٹی کے عالمی یومیہ فعال صارفین کا ایک تہائی سے زائد حصہ رکھتا ہے، جو گزشتہ برس محض۷ فیصد تھا۔
صارفین کی سرگرمی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت بھارت میں چیٹ جی پی ٹی کو برتری حاصل ہے۔ نومبر میں اس کے تقریباً۴۶ فیصد ماہانہ صارفین نے روزانہ ایپ کھولی، جبکہ پرپلیکسیٹی کیلئے یہ شرح ۲۰ فیصد اور جیمنائی کے لیے ۱۴فیصد رہی۔










