سعودی عرب نے مبینہ طور پر بھیک مانگنے کے الزام میں۲۴ ہزار پاکستانیوں کو ملک بدر کر دیا اور متحدہ عرب امارات نے ’مجرمانہ سرگرمیوں‘ کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ویزا قوانین سخت کر دیے۔
آذربائیجان نے بھیک مانگنے کے الزام میں تقریباً ۲۵۰۰ پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال سعودی عرب نے پاکستان کو اس بات پر بھی خبردار کیا تھا کہ بڑی تعداد میں پاکستانی شہری مذہبی زیارت کے نام پر مملکت میں داخل ہو رہے ہیں اور بعد ازاں بھیک مانگنے میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔
سعودی حکام نے اسلام آباد سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں پاکستانی عمرہ اور حج زائرین کے لیے منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، سعودی وزارتِ حج نے باضابطہ طور پر اس مسئلے کی نشاندہی کی تھی کہ عمرہ ویزوں پر آنے والے افراد کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد بھیک مانگنے میں ملوث پائی جا رہی ہے، حالانکہ یہ ویزے صرف مذہبی زائرین کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ ایسے اقدامات پاکستانی زائرین کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
نومبر میں متحدہ عرب امارات نے پاکستانی شہریوں کے لیے معمول کے ویزوں کے اجرا کو معطل کر دیا تھا، جس کی وجہ درخواست دہندگان کے ’مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے‘ کے خدشات بتائے گئے۔
یہ اقدام پاکستانی مسافروں کی جانب سے ویزا مسترد ہونے کی شکایات کے مہینوں بعد سامنے آیا۔
ڈان کے مطابق، مسلسل ویزا مسترد کیے جانے کے باعث جس پیش رفت پر طویل عرصے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، اسے ایک اجلاس کے دوران باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا۔
ایک سینئر پاکستانی عہدیدار نے اعتراف کیا کہ یہ فیصلہ پاکستانیوں کے مغربی ایشیائی ملک کا سفر کرنے اور وہاں ’’جرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے‘‘ کے خدشات سے جڑا ہوا تھا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ بیرون ملک جا کر بھیک مانگنے کے جرم میں ڈی پورٹ (بے دخل) کیے جانے والے پاکستانیوں پر سفری پابندی بڑھائی جا رہی ہے جبکہ اِن افراد کو پاکستان میں بھی فوجداری کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بدھ کے روز پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں بریفنگ کے دوران ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے یہ انکشاف کیا ہے کہ رواں سال ہزاروں پاکستانیوں کو مختلف ممالک سے بھیک مانگنے کے الزام میں ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔
پاکستانی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’بھیک مانگنے کے الزام میں بے دخل کیے جانے والوں پر سفری پابندیوں کو بڑھانے کی قانون سازی کی جا رہی ہے جس کا اعلان جلد ہو گا۔‘
ڈی جی ایف آئی اے کی بریفنگ کے مطابق رواں سال سعودی عرب نے ۲۴ ہزار پاکستانیوں کو ’بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا جبکہ متحدہ عرب امارات نے چھ ہزار پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا۔‘جبکہ حکام کے مطابق رواں سال آذربائیجان سے بھی ’ڈھائی ہزار بھکاریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔‘
ایسا پہلی بار نہیں جب بھیک مانگنے کے جرم میں سعودی عرب سمیت دیگر ممالک سے پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ہو۔پاکستانی وزارت داخلہ کی اس رپورٹ کے مطابق سال ۲۰۲۴ میں مجموعی طور پر ۴۸۵۰؍ افراد جبکہ مئی ۲۰۲۵ تک۵۵۲ پاکستانی شہری مختلف ممالک سے بھیک مانگنے کے جرم میں واپس بھیجے گئے۔ اس دوران سب سے زیادہ شہری سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہوئے تھے۔










