واشنگٹن، 18 دسمبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے افغانستان کی بگڑتی سیکیورٹی صورت حال کے پیشِ نظر افغان شہریوں کے لیے امیگریشن پالیسی مزید سخت کردی ہے ۔
ٹرمپ انتظامیہ کا طالبان رجیم کے دہشت گردانہ اقدامات پر سخت کریک ڈاؤن جاری ہے ۔ امریکہ نے افغان اسپیشل امیگرنٹ ویزا معطل کرتے ہوئے افغان شہریوں کے لیے تمام امیگریشن چینلز بند کردیئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا صدارتی حکم جاری کر دیا گیا، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق افغان نژاد کی فائرنگ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے افغان شہریوں کے لئے پابندیاں سخت کردی ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان ان بارہ ممالک میں شامل ہے جن پر مکمل سفری پابندی ہیں جس میں مترجمین بھی شامل ہیں۔
دی واشنگٹن پوسٹ نے کہا افغان طالبان رجیم کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی اب عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے ، جرمنی نے پناہ گزین پروگرام معطل کردیا ہے , آسٹریلیا نے افغان شہریوں پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے افغان سفارت خانہ بند کرنے کا عندیہ دے دیا جبکہ برطانیہ نے شہریوں کے لیے سخت ٹریول ایڈوائزری جاری کردی ہے ۔
واشنگٹن پوسٹ نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ کریک ڈاؤن اس وقت تیز کر دیا جب افغان نژاد رحمان اللہ لاکنوال نے دو نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کر کے ایک کی جان لے لی، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، افغان نژاد لاکنوال پر قتل، حملے اور اسلحہ کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں افغان نژاد کے نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے تمام افغان شہریوں کی امیگریشن، شہریت اور گرین کارڈ درخواستیں معطل کر دی ہیں۔
دی واشنگٹن پوسٹ نے کہا افغان طالبان رجیم کی ریاستی سرپرستی میں جاری دہشت گردی اب عالمی امن کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکی ہے ، افغانستان میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر گزشتہ ہفتے جرمنی نے بھی پناہ گزین پروگرام معطل کر دیا۔










