وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ آپریشن سندور کے دوران مسلح افواج نے بھارت کی ’’زیادہ اثر رکھنے والی، کم مدت کی‘‘ عملی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا، اور فضائیہ کے کمانڈرز پر زور دیا کہ وہ اس فیصلہ کن فوجی کارروائی سے سبق حاصل کریں اور آئندہ ہر چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں۔
یہ بات سنگھ نے یہاں ایئر فورس کمانڈرز کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیرِ دفاع نے اس موقع پر اس امر کو بھی اجاگر کیا کہ ’’اکیسویں صدی کی جنگ محض ہتھیاروں کی جنگ نہیں بلکہ یہ خیالات، ٹیکنالوجی اور موافقت پذیری کی بھی جنگ ہے‘‘۔
وزارتِ دفاع کے مطابق، راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران دہشت گرد کیمپوں کو تباہ کرنے میں بھارتی فضائیہ (آئی اے ایف) کی جرأت، رفتار اور درست نشانے بازی کی ستائش کی، اور بھارتی حملوں کے بعد پاکستان کی ’’غیر ذمہ دارانہ ردِعمل‘‘ سے مؤثر طور پر نمٹنے پر فضائیہ کی تعریف کی۔
بھارت نے۷ مئی کی علی الصبح یہ فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے دوران پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (پی او کے) میں متعدد دہشت گرد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے بھی بھارت کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، جن کے جواب میں نئی دہلی کی تمام جوابی کارروائیاں آپریشن سندور کے تحت انجام دی گئیں۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا’’آپریشن سندور کے دوران مسلح افواج نے بھارت کی زیادہ اثر رکھنے والی اور کم مدت کی عملی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔‘‘ انہوں نے بھارتی فضائیہ کو ایک ٹیکنالوجی سے لیس، عملی طور پر مستعد، اسٹریٹجک طور پر پْراعتماد اور مستقبل پر نظر رکھنے والی فورس قرار دیا، جو بدلتے عالمی منظرنامے میں قومی مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔
دشمن کی ’’حملہ آور اور دفاعی صلاحیتوں‘‘ کو گہرائی سے سمجھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کمانڈرز سے کہا کہ وہ آپریشن سندور سے حاصل ہونے والے اسباق کو مدنظر رکھیں اور ہر آنے والے چیلنج کیلئے چوکس اور تیار رہیں۔
دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان یہ فوجی تصادم تقریباً ۸۸ گھنٹے تک جاری رہا، جس کے بعد ۱۰ مئی کی شام دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمت کے تحت صورتحال میں وقفہ آیا۔
عوام کے مسلح افواج، بالخصوص فضائی دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد کو اجاگر کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا ’’عموماً جب دشمن حملہ کرتا ہے تو لوگ چھپ جاتے ہیں، لیکن جب پاکستانی افواج نے بھارتی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو بھارت کے عوام پرسکون رہے اور اپنی روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری رکھی۔ یہ ہر بھارتی کے ہمارے عملی تیار ہونے پر اعتماد کا ثبوت ہے۔‘‘
کانکلیو میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان، فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ اور بھارتی فضائیہ کے دیگر سینئر کمانڈرز نے شرکت کی۔
جنگ کی بدلتی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ روس۔یوکرین جنگ، اسرائیل۔حماس تنازع، بالاکوٹ فضائی حملے اور آپریشن سندور نے ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ دور میں فضائی طاقت ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھری ہے۔انہوں نے کہا کہ فضائی طاقت محض ایک حربی وسیلہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک آلہ ہے، اور رفتار، حیرت اور نفسیاتی دباؤ اس کی بنیادی خصوصیات ہیں۔
سنگھ نے کہا’’فضائی طاقت قیادت کو یہ صلاحیت فراہم کرتی ہے کہ وہ دشمن کو ایک واضح اسٹریٹجک پیغام دے سکے کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر قدم اٹھایا جائے گا۔ رفتار، رسائی اور درستگی کے ذریعے فضائی طاقت قومی مقاصد کو فوجی ذرائع سے ہم آہنگ کرنے کا مؤثر ذریعہ بن چکی ہے‘‘۔
آپریشن سندور کے دوران استعمال ہونے والے بھارت کے فضائی دفاعی نظام اور دیگر سازوسامان کی کارکردگی کی ستائش کرتے ہوئے، سینئر بی جے پی رہنما نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھارت کے سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
سنگھ نے کہا ’’اکیسویں صدی کی جنگ محض ہتھیاروں کی جنگ نہیں ہے۔ یہ خیالات، ٹیکنالوجی اور موافقت پذیری کی جنگ ہے۔ سائبر وارفیئر، مصنوعی ذہانت، بغیر پائلٹ کے فضائی نظام، سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی اور خلائی صلاحیتیں جنگ کے مستقبل کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہیں‘‘۔
وزیر دفاع نے مزید کہا ’’درست نشانے والے ہتھیار، حقیقی وقت کی انٹیلی جنس اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی اب اختیاری نہیں رہی بلکہ جدید تنازعات میں کامیابی کے لیے بنیادی ضرورت بن چکی ہیں۔جو ممالک ٹیکنالوجی، اسٹریٹجک وڑن اور موافقت پذیری کے امتزاج میں مہارت حاصل کر لیں گے، وہ عالمی قیادت کی جانب بڑھیں گے‘‘۔
سنگھ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ’سدرشن چکر‘، جس کا اعلان وزیر اعظم مودی نے اس سال یومِ آزادی کی تقریر میں کیا تھا، آئندہ دنوں میں قومی اثاثوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ساختہ جیٹ انجنوں کی تیاری ایک قومی مشن بن چکی ہے اور حکومت اس ہدف کے حصول کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
سنگھ کے مطابق، نومبر ۲۰۲۵ تک آئی ڈی ای ایکس کے تحت دیے گئے ۵۶۵ چیلنجز میں سے مجموعی طور پر ۶۷۲ فاتح سامنے آئے ہیں، جن میں بھارتی فضائیہ سے متعلق۷۷ چیلنجز کے تحت ۹۶فاتح شامل ہیں۔انہوں نے آپریشن سندور کو تینوں افواج کے درمیان ہم آہنگی کی ایک شاندار مثال قرار دیتے ہوئے موجودہ تیزی سے بدلتے حالات میں ’’جوائنٹنس‘‘ کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیر دفاع نے کہا ’’تینوں افواج کے درمیان اشتراک انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اس سے ہمارا سلامتی نظام مزید مضبوط ہوگا اور ہم اپنے مخالفین سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹ سکیں گے‘‘۔
سنگھ نے ملکی و بین الاقوامی سطح پر بھارتی فضائیہ کی انسانی ہمدردی اور آفات سے نمٹنے کی کوششوں کی بھی ستائش کی۔انہوں نے کہا ’’چاہے ملک کے اندر ہو یا بیرونِ ملک، فضائیہ نے قدرتی آفات کے دوران مسلسل اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہت سے مشن انتہائی مشکل حالات میں انجام دیے گئے، جس سے عوام کا اپنے فضائی جانبازوں پر اعتماد مزید بڑھا ہے۔‘‘
کانکلیو میں شرکت کے بعد راج ناتھ سنگھ کو بھارتی فضائیہ کی عملی تیاریوں کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔










