جموں کشمیر کے تیز گیند باز عاقب نبی کا نام منگل کو اس وقت پورے کرکٹ حلقے میں گونج اٹھا جب آئی پی ایل ۲۰۲۶ کی نیلامی میں دہلی کیپیٹلز نے انہیں۴۰ء۸ کروڑ روپے میں اپنی ٹیم کا حصہ بنا لیا۔
محض ۳۰ لاکھ روپے کی بنیادی قیمت رکھنے والا یہ کھلاڑی چند منٹوں میں سب سے بڑی بولیوں میں شامل ہو گیا، جہاں دہلی کیپیٹلز کو رائل چیلنجرز بنگلورو اور سن رائزرس حیدرآباد جیسی ٹیموں سے سخت مقابلے کے بعد کامیابی ملی۔ یہ صرف ایک نیلامی کی خبر نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے سفر کی توثیق تھی جو گلیوں کی ٹینس بال کرکٹ سے عالمی اسٹیج تک پہنچا۔
۴نومبر ۱۹۹۶ کو بارہمولہ میں پیدا ہونے والے عاقب نبی کا تعلق کسی اسپورٹس اکیڈمی یا مراعات یافتہ پس منظر سے نہیں۔ ان کے والد غلام نبی ڈار ایک سرکاری اسکول میں انگریزی کے استاد ہیں اور خاندان کی خواہش تھی کہ عاقب طب کے شعبے میں جائیں۔ مگر کرکٹ سے وابستگی محض شوق نہیں رہی، وقت کے ساتھ یہ عاقب کی شناخت بنتی چلی گئی۔
ابتدا میں والدین کی ہچکچاہٹ فطری تھی، لیکن جب عاقب انڈر۱۹ سطح تک پہنچے تو یہی والد ان کے سب سے مضبوط سہارے بن گئے۔
بارہمولہ میں اس وقت منظم کوچنگ کا کوئی خاص ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ عاقب نے خود اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ۱۹ برس کی عمر کے بعد پہلی بار باقاعدہ ریڈ بال کرکٹ کھیلی۔ اس سے پہلے ان کا میدان گلیاں اور دوستوں کے ساتھ کھیلی جانے والی ٹینس بال کرکٹ تھی۔ ایک دوست کے کہنے پر وہ اسٹیٹ ٹرائلز میں شریک ہوئے اور وہی لمحہ ان کی زندگی کا رخ بدلنے والا ثابت ہوا۔
دائیں ہاتھ کے میڈیم فاسٹ بولر عاقب نبی کی سب سے بڑی پہچان گیند کو دونوں جانب حرکت دینے کی صلاحیت اور لائن و لینتھ پر غیر معمولی کنٹرول ہے۔ انہوں نے اپنی بولنگ ایکشن کو جنوبی افریقہ کے عظیم فاسٹ بولر ڈیل اسٹین سے متاثر ہو کر ڈھالا، خصوصاً آؤٹ سوئنگر کے ساتھ جارحانہ انداز میں۔ حالیہ برسوں میں وہ جسپریت بمراہ کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں، خاص طور پر ہر فارمیٹ میں وکٹ لینے کی بھوک اور ذہنی مضبوطی کے باعث۔
عاقب نے ۲۰۱۹۔۲۰۲۰ سید مشتاق علی ٹرافی میں جموں و کشمیر کیلئے ڈیبیو کیا۔ اب تک ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے۲۷ ٹی۲۰ میچز میں وہ ۲۸ وکٹیں حاصل کر چکے ہیں، اوسط۳۹ء۲۶ کے ساتھ۔ تاہم اصل پہچان انہیں طویل فارمیٹ میں ملی۔ رانجی ٹرافی۲۰۲۴۔۲۵میں انہوں نے ۴۴ وکٹیں حاصل کر کے پورے ٹورنامنٹ میں دوسرے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے بعد دلیپ ٹرافی ۲۰۲۵ میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں چار گیندوں پر چار وکٹیں لے کر انہوں نے خود کو نایاب کارنامہ انجام دینے والے بولرز کی فہرست میں شامل کر لیا۔
مختصر فارمیٹ میں بھی ان کی کارکردگی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ سید مشتاق علی ٹرافی۲۰۲۵۔۲۰۲۶ میں ایڈن گارڈنز کے تاریخی میدان پر بہار کے خلاف ۴/۱۶ کی شاندار اسپیل نے ان کی صلاحیت کو قومی سطح پر اجاگر کیا، جہاں جموں و کشمیر کی ٹیم نے ۱۵۰ رنز کا کامیاب دفاع کیا۔
دہلی کیپیٹلز کی جانب سے۴۰ء۸ کروڑ کی خطیر رقم صرف موجودہ کارکردگی پر داؤ نہیں، بلکہ مستقبل کی سرمایہ کاری سمجھی جا رہی ہے۔ عاقب کی بولنگ وہ خصوصیات رکھتی ہے جو مختلف پچز اور حالات میں کارگر ثابت ہو سکتی ہیں…نئی گیند سے موومنٹ، درمیانی اوورز میں کنٹرول اور دباؤ میں وکٹ لینے کی اہلیت۔
عاقب نبی کی یہ کامیابی صرف ایک کھلاڑی کی انفرادی فتح نہیں، بلکہ جموں و کشمیر کے ابھرتے کرکٹ ٹیلنٹ کیلئے ایک مضبوط پیغام ہے۔ یہ کہانی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ محدود وسائل، تاخیر سے مواقع اور طویل انتظار کے باوجود، اگر تسلسل اور یقین قائم رہے تو راستے خود بننے لگتے ہیں۔
آئی پی ایل کی چمکتی اسٹیج پر عاقب نبی کی موجودگی اسی خاموش محنت کا ثمر ہے‘جو اب سب کی نظروں کے سامنے آ چکی ہے










