انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) جموں زون بھیم سین توتی نے منگل کے روز بتایا کہ ضلع ادھمپور میں دہشت گردوں کے ساتھ جاری تصادم کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا، جبکہ ابتدائی فائرنگ کے بعد دہشت گرد گھنے جنگلات کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے آئی جی پی جموں نے کہا کہ سون گاؤں میں پیر کی شام ایک مخصوص خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا’’اطلاع درست ثابت ہوئی اور اس وقت تصادم شروع ہو گیا جب اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس ا و جی) کی ایک چھوٹی ٹیم پر دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی‘‘۔
آئی جی پی کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران پونچھ سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکار امجد علی خان شدید زخمی ہو گئے۔انہوں نے کہا’’انہیں فوری طور پر علاج کیلئے منتقل کیا گیا، لیکن بدقسمتی سے زیادہ خون بہہ جانے کے باعث وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے‘‘۔
جموں کے آئی جی پی نے مزید بتایا کہ ابتدائی فائرنگ کے بعد دہشت گرد قریب واقع گھنے جنگل کی طرف فرار ہو گئے۔انہوں نے کہا’’پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور بھارتی فوج اور سی آر پی ایف کی مدد سے مشترکہ کومبنگ آپریشن شروع کیا گیا ہے‘‘۔
توتی نے کہا کہ علاقے کی جغرافیائی صورتحال انتہائی دشوار ہے، جہاں پہاڑی سلسلے اور گھنا جنگلاتی احاطہ موجود ہے۔
آئی جی پی کے مطابق’’ابتدائی خفیہ اطلاع کے مطابق وہاں تین دہشت گرد چھپے ہوئے تھے، جس کی تصدیق تصادم کے دوران بھی ہوئی۔ دہشت گردوں کا سراغ لگانے کیلئے آپریشن تاحال جاری ہے‘‘۔
اس مشترکہ کارروائی میں جموں و کشمیر پولیس کی ایس او جی، فوج اور سی آر پی ایف کے جوان شامل ہیں، جبکہ اسنفر ڈاگز کی مدد بھی لی جا رہی ہے ۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاع ملنے پر عمل میں لائی گئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ کم از کم تین دہشت گرد سون گاؤں کے قریب موجود ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ان کا تعلق پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم جیشِ محمد سے ہو سکتا ہے ۔
اس سے پہلے آئی جی پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس‘پر بتایا کہ ایس او جی کی ایک محدود ٹیم نے سب سے پہلے دہشت گردوں کا سامنا کیا، تاہم اندھیرا اور گھنے جنگلات کے ساتھ دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باعث سرچ آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں تاہم سکیورٹی فورسز نے ممکنہ فرار ہونے کے تمام راستوں کو سیل کیا ہے ۔
آخری اطلاعات موصول ہونے تک علاقے میں آپریشن جاری تھا۔ اس سلسلے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے










