حکومتِ ہند جموں و کشمیر کے مرکز کے زیرِ انتظام خطے میں بجلی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور صاف توانائی کو فروغ دینے کیلئے بڑے آبی بجلی اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں پر عمل درآمد کر رہی ہے۔
یہ بات مرکزی وزیرِ مملکت برائے بجلی اور نئی و قابلِ تجدید توانائی‘ شریپاد نائک نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتائی۔
وزیر نے کہا کہ وزارتِ بجلی کے تحت مرکزی پبلک سیکٹر انٹرپرائز، این ایچ پی سی لمیٹڈ، جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن (جے کے ایس پی ڈی سی) کے ساتھ مشترکہ منصوبہ جاتی کمپنیوں کے ذریعے جموں و کشمیر میں چار بڑے آبی بجلی منصوبوں پر عمل درآمد کر رہا ہے، جن کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت ۳۰۱۴ میگاواٹ ہے۔
جواب میں بتایا گیا کہ ان منصوبوں میں رتلے (۸۵۰ میگاواٹ)، پاکل دل (۱۰۰۰ میگاواٹ)، کیرو (۶۲۴ میگاواٹ) اور کوار (۵۴۰ میگاواٹ) شامل ہیں، جو سب ضلع کشتواڑ میں واقع ہیں۔ یہ منصوبے مختلف مراحل میں ہیں اور دسمبر ۲۰۲۶ سے نومبر ۲۰۲۸ کے درمیان مکمل کیے جانے کا شیڈول ہے۔
نائک نے مزید بتایا کہ این ایچ پی سی کے جموں و کشمیر میں تین آبی بجلی منصوبے منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں، جن میں بارہمولہ میں یوری اول اسٹیج دوم (۲۴۰ میگاواٹ)، کشتواڑ میں دلہستی اسٹیج-دوم (۲۶۰ میگاواٹ)، اور رام بن اور ادھم پور اضلاع میں ساول کوٹ (۱۸۵۶ میگاواٹ) شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی مجموعی منصوبہ بند صلاحیت ۲۳۵۶ میگاواٹ ہے۔
قابلِ تجدید توانائی پر حکومت کی توجہ کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کے تحت ۱۱ دسمبر۲۰۲۵ تک جموں و کشمیر کے مرکز کے زیرِ انتظام خطے میں مجموعی طور پر ۱۶ہزار۲۱۲ روف ٹاپ شمسی نظام نصب کیے جا چکے ہیں۔ پی ایم-کْسم اسکیم کے تحت، یو ٹی کو ۵ہزار شمسی پمپ مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے ۳۰نومبر ۲۰۲۵ تک۳۶۰۱ پمپ نصب کیے جا چکے ہیں۔
نائک نے مزید کہا کہ سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا (ایس ای سی آئی) نے جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن (جے کے ایس پی ڈی سی) کے ساتھ یو ٹی میں ۱۰میگاواٹ کے شمسی فوٹو وولٹائیک منصوبے کی ترقی کیلئے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جسے کام الاٹ ہونے کے ۱۲ ماہ کے اندر مکمل کیا جانا ہے۔










